’ہائے ڑی مائی موکھی! یہ وہی مقام ہے، جہاں تو مسافروں کو مدرا پلاکر رخصت کرتی تھی۔ آج یہاں تُو مٹی کے ساتھ مٹی ہوگئی ہے تو ہم پیاسوں کے لیے یہاں سادہ پانی بھی نہیں:
پلا تشنہ لب راہ گیروں کو ساقی!
چھپا کر نہ رکھ یہ شرابِ محبت
وہ جرعے جو توان غریبوں کو دے گا
غم زندگی بھی نہیں ان کی قیمت۔
ڈاکٹر واحد نے خالی مٹکے کو غصے سے اوندھا کرکے رکھ دیا اور قریب رکھی جھلنگا چارپائی کی پٹی پر بیٹھ گیا:
’سائیں! اچو، ویہو۔ تھک لہے تہ ہلوں تھا‘
(سائیں!آئیں بیٹھیں،ذرا تھکن کم ہوتو چلتے ہیں)۔
تھکن کی بات انہوں نے ایسے کی، جیسے بائیک کے بجائے ہم سہراب گوٹھ سے موکھی قبرستان تک پیدل آئے ہوں۔ انہوں نے گزشتہ رات مجھے فون کرکے کہا تھا کہ آج بارش برسی ہے۔ صبح کو کہیں نکلنے کا پروگرام بنائیں لیکن زیادہ دور کا نہ رکھیں۔ ہم کہیں قریب سے گھوم کے آجائیں تو اچھا ہے۔ اس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر ان کو موڈ ہو تو موکھی اور اس کے قریبی علاقے کا پھیرا لگا کر آتے ہیں۔ وہاں وہ تاریخی قبرستان واقع ہے، جس کے کرداروں کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنے کلام میں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:زمین پر زندگی 2050 میں، ربع صدی بعد ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟
اگلی صبح جب گھر سے نکلے تو یہ توقع تھی کہ اگر کل کی طرح، آج بارش نہ ہوئی تو بھی موسم ابر آلود رہے گا۔ مگر ناردرن بائی پاس پر پہنچ کر، وہ حال ہوا جو بارش کے بعد نکلنے والی تیز دھوپ میں ہوتا ہے۔ یعنی دھوپ کی تمازت اور تیکھا پن ایسا تھا جو عام گرمیوں میں بھی نہیں ہوتا۔ جسم میں سوئیاں چبھنے لگی تھیں، سو آگے جب ناردرن بائی پاس کا ٹول پوائنٹ آیا تو وہاں رک کر پانی پیا اور افغان مہاجرین کی بستی سے منرل واٹر کی ایک بڑی بوتل خرید لی۔ یہ بوتل ہم نے راستے میں اس امید پر پی کر ختم کرلی کہ آگے دوسری آبادیوں میں سب کچھ میسر آجائے گا، لیکن جب ہم موکھی کے قبرستان تک پہنچے تو ہمارا حال صحرائے تھر کے مسافروں جیسا تھا۔
مائی موکھی کی قبر تلاش کرکے فاتحہ پڑھنے کے بجائے میرے ساتھی ڈاکٹر واحد بائیک کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے اس جانب بڑھ گئے، جہاں مٹکا رکھا تھا اور قریبی درخت کی ایک شاخ کے ساتھ رسی سے گلاس بندھا لٹک رہا تھا۔ انہوں نے گلاس اتار کر، مٹکے میں ڈالا تو المونیم کا گلاس مٹکے کے پیندے سے ٹکرانے کی خالی آواز آئی اور ڈاکٹر کا موڈ خراب ہوگیا۔ انہوں نے مائی موکھی کی تاریخی حیثیت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا اور پھر کہنے لگے:
’ایسی ساقی عورت کے قبرستان کے اوپر سڑک بن ہی جائے تو اچھا ہے۔ غضب خدا کا، جو عورت مسافروں اور راہ گیروں کو مدھ پلاتی رہی ہے، اس کی آخری آرام گاہ پر سادہ پانی بھی میسر نہیں ہے؟‘۔
’ابے بھائی! ذرادم لے لے۔ ابھی کسی کو بلاکر آپ کوچائے اور پانی، سب پلاتے ہیں‘۔
میں نے انہیں تسلی دی تو وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی موکھی سے متعلق بیت پڑھ کر، وہاں رکھی ہوئی جھلنگا چار پائی میں سماگئے۔ اس بیت کا مطلب یہ ہے:
’مدرا کو چھپاکر رکھنے کے بجائے پیاسے راہ گیروں کی خدمت میں پیش کر دے تاکہ وہ خوش ہوں‘۔
میں نے قریبی گوٹھ ہوت خاصخیلی کے ایک دوست کو فون کرکے بتایا کہ ہم موکھی قبرستان میں کھڑے ہیں اور اس کی راہ ’نہارتے‘ ہیں۔ دوست نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح صبح ’کراچی‘ نکل آیا ہے، لیکن اپنے گھر سے کسی کو ہمارے پاس بھیج رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی
اس دوست نے کراچی جانے کا اس طرح بتایا کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ ہم اس وقت کراچی سے دور کسی دوسرے علاقے میں آنکلے ہیں، حالانکہ ہم کراچی شہری حکومت کی اعلان کردہ ہاؤسنگ اسکیم تیسر ٹاؤن میں کھڑے تھے، جس کے پتھریلے بورڈ موکھی کے تاریخی قبرستان میں عین قبرستان کے درمیان گڑے ہوئے تھے۔
جب تک گوٹھ سے کوئی ہماری خیر خبر لینے آئے، تب تک ہم یہاں اس قدیم قبرستان سے منسوب لوک قصے سے آگاہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے ایک عورت ناتر کی 6 بیٹیاں تھیں، جن کے نام پر آج بھی کراچی کے 6 دیہہ (مواضع) منسوب ہیں۔ ان میں موکھی، صفورہ، تیسر، دوزان، گجھڑو اور دیگر شامل تھیں۔
موکھی کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ بلوچستان سے سندھ آنے والے تجارتی رستے پر میکدہ کھول کر بیٹھی تھی اور مسافروں، راہگیروں کی خدمت کرکے گزارا کرتی تھی۔ اس کے مسافر گاہکوں میں ’متارا‘ کے نام سے پہچانے جانے والے 7 ساتھی بھی تھے جو یہاں سے گزرتے ہوئے موکھی کی دکان پر پینے پلانے آتے تھے۔ قصہ گو بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہ متارے’آف سیزن‘ میں آنکلے اور موکھی سے تقاضا کیا کہ ان کے پینے کے لیے کچھ لے آئے۔
موکھی نے معذرت کی کہ وہ میکدہ عارضی طور پر بند کرچکی ہے۔ پھر جب کھولے گی تو وہ آجائیں۔ اس وقت اس کے پاس کوئی مشروب موجود نہیں ہے۔
اس پر متاروں کو غصہ آگیا اور انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اتنی دور سے، سب میکدے چھوڑ کر موکھی کے پاس آئے ہیں، اس لیے وہ اپنے تہہ خانے میں جاکر کچھ تلاش کرےِ مبادا کچھ مل جائے۔
موکھی ان کے مجبور کرنے پر تہہ خانے میں چلی گئی مگر وہاں چوںکہ مشروبات رکھنے والی سبھی الماریاں خالی تھیں، اس لیے اس نے وہاں پڑے کاٹھ کباڑ کو ایسے ہی کھڑکانا شروع کیا تاکہ اس کے ضدی گاہکوں کو اندازہ ہو جائے کہ موکھی تلاش میں مصروف ہے ۔
اتفاقاً اسی کاٹھ کباڑ سے ایک بھرا ہوا کوزہ نکل آیا، جسے لے کر وہ باہر آگئی اور اپنے ضدی گاہکوں کو پیش کر دیا۔
متاروں نے مشروب پی کر موکھی کو بتایا کہ ایسا تیز مشروب انہوں نے زندگی بھر نہیں پیا، لہٰذا آئندہ وہ یہی’برانڈ‘ پیا کریں گے۔ وہ روانہ ہوگئے تو موکھی اس خالی کوزے کو دھونے بیٹھ گئی۔ جب موکھی نے کوزہ اوندھا کیا تو اس میں سے باریک باریک ہڈیاں نکل کر باہر آگریں۔ موکھی یہ ہڈیاں دیکھ کر دہل گئی کیوں کہ وہ کسی مردہ سانپ کی باقیات تھیں۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کوزے میں کوئی سانپ گر گیا تھا جو تیز کسیلے مشروب میں گل گیا۔ اب اسے متاروں کی زندگی کی فکر لاحق ہونے لگی تھی مگر یہ چوںکہ صدیوں پہلے کا قصہ ہے، جب ذرائع مواصلات ناپید تھے اور آمدورفت بھی زیادہ نہ تھی۔ اس لیے موکھی کو متاروں سے متعلق کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ ویسے بھی اس کا کاروبار اب بند تھا اور 6 ماہ بعد کھلنا تھا۔
جب یہ موسم گزرا تو ایک دن متارے پھر آنکلے، جنھیں دیکھ کر موکھی نے اطمینان کا سانس لیا۔ انہوں نے آتے ہی فرمائش کی کہ وہ جو گزشتہ مرتبہ ایک پرانا کوزہ نکال لائی تھیں، آج وہی پلادو۔
موکھی نے اندر سے اعلیٰ ترین چیز نکال کر پیش کی مگر ان لوگوں کا اصرار جاری رہا کہ نہیں، وہ جو پچھلی بار پی تھی، وہ چاہیے۔ اس کے بعد موکھی نے اپنے ہاں موجود تمام ’برانڈز‘ انھیں پیش کیے مگر ان کی ضد اور اصرار جاری رہا کہ یہ سب سابقہ کے مقابلے میں سادہ پانی کے مترادف ہیں۔
آخر کار موکھی نے تنگ آکر انہیں سانپ کی وہ باقیات دکھائیں اور بتایا کہ پچھلی بار جو تم لوگ پی کر گئے تھے، اُس کوزے میں پتا نہیں کس طرح سانپ گھس کر مرگیا تھا۔ اس لیے اس کا سرور کچھ اور تھا بلکہ اس مشروب کو اتنا زیادہ سرور آور سانپ کے زہرہی نے کیا تھا۔ موکھی نے انہیں طعنہ مارا:
’تم کیسے میخوار ہو کہ تمھیں مے اور زہر آلود مشروب میں فرق ہی پتا نہیں چلا‘۔
یہ سن کر وہ ساتوں متارے سوچ میں پڑ گئے اور تھوڑی دیر بعد خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے نکل گئے۔
یہ بھی پڑھیں:’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘
تھوڑا فاصلہ طے کرکے وہ رک گئے اور آپس میں کہنے لگے کہ مائی موکھی نے جو طعنہ مارا ہے، اس کے بعد جینا مردانگی نہیں۔ یہ کہہ کر وہ گرتے چلے گئےاور اسی عالم میں مرگئے۔
یہ قصہ سندھ کی لوک داستانوں میں’موکھی-متارا‘ کے عنوان سے موجود ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور موکھی کو کہیں برا بھلا کہا ہے تو کہیں اس قصے کی روحانی رمز بیان کرتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔ شاہ سائیں کا ایک بیت یوں ہے :
موکھی چوکھی نہ تھیئے، اصل اوچھی ذات
وٹیوں ڈیئی وات، متارا جنہں ماریا۔
(موکھی کم ذات ہے، سو وہ کبھی اعلیٰ مرتبت ہو نہیں سکتی۔ اس نے زہریلا مشروب پلاکر بے چارے متاروں کو ماردیا )۔
دوسرے بیت میں شاہ صاحب موکھی کو مرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:
متارا مری ویا، موکھی! توں بھی مر
تہنجو ڈوس ڈمر، کون سہندو ان رے۔
(متارے تو مرگئے،اس لیے اے موکھی! تو بھی اب مرجا (کیوں کہ) متاروں کے علاوہ اب کوئی ایسا نہیں جو تمہارا یہ ظلم (زہر یلی شراب) برداشت کرسکے)۔
ایک اور جگہ شاہ صاحب نے اپنے کلام بلاغت نظام میں موکھی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے:
ان بلانوش مے پرستوں کو
یہ نہ سمجھو شراب نے مارا
ہائے! اس کا کلام زہرہ گداز
ان کو جس کے خطاب نے مارا
ہمارے دوست ڈاکٹر واحد اور دیگر وہیں موکھی کے مزار کے قریب درخت کے سائے میں کھڑے کھڑے کچہری کررہے تھے کہ چند مقامی لوگ وہاں سے گزرے، جنہوں نے سلام کرکے حال احوال پوچھا۔ ان میں ایک بزرگ ایسے تھے، جن کے پاؤں گل سڑرہے تھے۔ ہمارے ڈاکٹر دوست نے ان کے پاؤں کا ہمدردی سے معائنہ کیا اور اپنے بیگ سے انہیں کچھ دوائیں دے کر ایک نسخہ بھی لکھ کر دیا کہ وہ یہ دوائیں کھائیں تاکہ ان کی تکلیف کم ہو۔
ان کے جانے کے بعد مجھ سے کہنے لگے:
’لگتا ہے کہ موکھی نے جس جگہ اپنا زہریلا کوزہ دھویا تھا، یہ بزرگ وہاں سے ننگے پاؤں گزرے ہیں کہ جس طرح سانپ اس مشروب میں گل گیا تھا، ان کے پاؤں بھی گلنے لگے ہیں‘۔
یہ تھا تو مذاق مگر بے حد سنگین تھا۔
تھوڑی دیر بعد ایک مقامی شخص الیاس چائے کا تھرموس، پانی کا کولر اور بسکٹ کے 2 ڈبے لے کر وہاں پہنچ گیا۔ ان کو ہمارے دوست نے فون کرکے کہا تھا کہ موکھی کے قبرستان میں آج پھر متارے (بہ معنی تنومند، فربہ لوگ) آئے ہوئے ہیں۔ موکھی تو اب رہی نہیں، لہٰذا تم ہی کچھ خیال کرکے روایت برقرار رکھو۔ اس لیے الیاس صاحب ہمارا پسندیدہ مشروب (پانی +چائے) لے کرا ٓئے تھے۔ بونس میں بسکٹ بھی تھے۔ یہ ناشتہ کرکے ہم پنجابی محاورے کے مطابق ’رج‘ گئے اور اب ہمیں موکھی-متارا والے موضوع پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دوسرے بیت بھی یاد آنے لگے تھے:
غذائے عاشقاں ہے زہر قاتل
اسے وہ دیکھ کر ہوتے ہیں شاداں
فدائے ہر ادائے قاتلانہ
نثار جنبش زنجیر زنداں
یہ چھپائے ہیں دلوں میں زخم کاری
تبسم ریز ہیں لب ہائے خنداں
ہم جو اتنی دیر سے پیاس کے باعث پریشان تھے، اب اس خور و نوش کے بعد مطمئن ہوگئے تھے اور پہلے جو ایک دوسرے سے بیزار بیٹھے تھے، اب الیاس سے اٹکھیلیاں کرنے پر اتر آئے تھے۔ جس کے ساتھ ہماری ’فرینک نیس‘ محض 15 منٹ پرانی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:حسن کیا ہے؟
الیاس نے بتایا کہ تیسر ٹاؤن کے ابتدائی منصوبے کے مطابق مرکزی سڑک اس تاریخی قبرستان کے بیچ سے گزرنا تھی، جس پر مقامی لوگوں نے سخت احتجاج اور مزاحمت کی تھی۔ اس کے نتیجے میں شہری حکومت نے سڑک کو قبرستان کے بیچ کے بجائے قریب سے گزارنے کی منظوری دی ہے۔ اس قبرستان کے درمیان اسکیم 45 تیسر ٹاؤن کے سنگی نشان بورڈوں کی صورت کئی جگہ ایستادہ ہیں، جن پر مقامی ’آرٹسٹوں‘ نے یادگار کے طور پر اپنے نام اور پسندیدہ اشعار ’جلی قلم‘ یعنی مسواک نما ٹہنیوں کو رنگ میں ڈبو کر لکھ چھوڑے ہیں۔
مائی موکھی کی قبر ایک بے در اور بغیر چھت والی چہار دیواری کے اندر ہے۔
وہاں ایک لمبی قبر ہے، جس پر لال چادر چڑھی ہوئی تھی۔ اس چادر پر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے گئے تھے تاکہ وہ ہوا سے اُڑ نہ جائے۔ ہم نے وہاں کھڑے کھڑے فاتحہ پڑھی۔
قبر کے پاس قدیم سندھی قبروں والے Carvedپتھر بھی رکھے ہوئے تھے، جن کی یہاں موجودگی سے یہ گمان ہوتا تھا کہ ممکن ہے مائی موکھی کی قبر بھی مکلی اور چوکھنڈی والی قبروں کی طرح پتھر سے گھڑ کر تیار کی گئی ہو۔ بعد میں یہ قبر تباہ ہوگئی تو مقامی لوگوں نے پتھروں اور اینٹوں سے نشان بنا لیا اور چاردیواری تعمیر کرائی۔
اوپر جن متاروں کا ذکر کیا ہے، ان کی قبریں کراچی کے ناراتھر والے پہاڑی علاقے میں ہیں۔ جو موکھی قبرستان سے کافی دور ہے۔ وہاں 6 قبریں تو ساتھ ساتھ ہیں جبکہ ساتویں قبر کا پتا نہیں چلتا۔ یہ قبریں ایک اونچی چٹان پر واقع ہیں، جس کے قریب ایک اور قبرستان بھی موجود ہے جو کہ جوکھیا قبیلے کا بتایا جاتا ہے۔
ان متاروں کی پتھریلی قبروں پر ان کے نام بھی کاریگروں نے ’تحریر‘ کر دیے تھے، جن کے مطابق وہ نام اس طرح ہیں:
٭ حادار حاجی
٭ اسحاق حاجی
٭ اسحاق اسماعیل
٭ آدم رستم
چھٹی قبر پر نام پڑھنے میں نہیں آتا۔ ان قبروں کے قریب ایک بڑے سے پتھر میں پیالہ سا تراشا ہوا ہے، جس کو مقامی لوگ متاروں کا پیالہ کہتے ہیں۔
قصہ گو بتاتے ہیں کہ ناتر نام کی عورت مومل- رانو والا کاک محل اجڑنے پر وہاں سے گڈاپ آگئی تھی۔ ناتر اصل میں شہزادی مومل کی خاص خدمت گار تھی۔ گڈاپ میں اس کی شادی ہوئی اور وہیں ناتر نے میکدہ کھولا تھا۔ ناتر کی وفات کے بعد اس کی بیٹی موکھی نے ماں کا کاروبار سنبھالا تھا۔
کراچی کے مضافات میں اس قدیم داستانی سفر میں ہم موکھی کے گوٹھ اور اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچے تھے۔ اور اس کے بعد قریبی پہاڑی پر متاروں کی قبروں تک جا پہنچے تھے، جن کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کہا ہے:
تم تنو مند اور توانا ہو
عاشقوں کی ہے کیا یہی پہچان؟
وصلِ محبوب کے لیے بے تاب
ان کا دل، ان کی روح، ان کی جان
اور اک شاہدِ ازل کے سوا
ان کی نظروں میں ہر حسیں انجان
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













