ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر تسلیم کرتے ہوئے ان سے تاحیات وفاداری کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال برقرار ہے اور امریکا اس معاملے پر کھل کر ردعمل دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب سے بغاوت کا مطالبہ، تحفظ کی پیشکش
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر تسلیم کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی ہے اور ان کے ساتھ مکمل وفاداری کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مخلص اور تاحیات وفاداری کا عہد کرتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ 88 رکنی مجلسِ خبرگان کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کا اسلامی نظام کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ انقلاب کی تحریک جاری رہے گی۔
🔊🚨
Mojtaba Khamenei, son of ayatollah killed in U.S.-Israeli strikes, named Iran's new supreme leader, state media reportshttps://t.co/UXj42U9VuN— Reinaldo Molares (@reyjmolares) March 8, 2026
ایران کی مسلح افواج نے بھی نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قیادت کو تسلیم کر لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اعلان سے ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے لیے واضح حمایت سامنے آ گئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور طویل عرصے سے ایرانی مذہبی و سیاسی حلقوں میں بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے قم کے مذہبی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کی اور انہیں ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور پاسدارانِ انقلاب کے بعض حلقوں میں خاصا اثر و رسوخ حاصل ہونے کا تاثر دیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر کسی بڑی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم ایران کی اندرونی سیاست میں انہیں طاقتور مذہبی و سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں واشنگٹن کو بھی کردار ہونا چاہیے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر نیا ایرانی رہنما امریکا کی منظوری حاصل نہیں کرتا تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی خطے کی سیاست اور جاری تنازعے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی سخت گیر قیادت کے تسلسل کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس کے خطے کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔













