نیٹ ہالینڈ کی 2 انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ روس کے حمایت یافتہ ہیکرز نے عالمی سطح پر واٹس ایپ اور سگنل کے اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی مہم شروع کردی ہے، جس کے ہدف حکومتی اہلکار، فوجی اور صحافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے واقعات، پی ٹی اے نے عوامی آگاہی کے لیے معلوماتی ویڈیو جاری کردی
ان گروپوں نے ای میل کے ذریعے حکومتی اہلکاروں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے کی دعوت دی، جس کے بعد چیٹس میں ہیکرز صارفین سے سیکیورٹی وریفیکیشن اور پن کوڈز ظاہر کرواتے ہیں، جس سے وہ ذاتی اکاؤنٹس اور گروپ چیٹس تک رسائی حاصل کر یتے ہیں۔
نیٹ ہالینڈ کی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی (اے آئی وی ڈی) اور ملٹری انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سروس (ایم آئی وی ڈی) کے مطابق اس مہم کے ذریعے حساس معلومات تک ہیکرز کی رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ متاثرہ افراد میں ڈچ حکومتی ملازمین اور صحافی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا صارفین کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے نیا پاس ورڈ فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ
انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ واٹس ایپ اور سگنل کے ایپلیکیشنز، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتے ہیں، اکثر حکومتی اہلکار رازدارانہ یا خفیہ معلومات کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہی ہیکرز کے لیے حساس معلومات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے۔
واٹس ایپ نے کہا کہ صارفین کبھی بھی اپنا چھ ہندسوں کا کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور کمپنی آن لائن خطرات سے حفاظت کے نئے طریقے تیار کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ اپ ڈیٹس: سخت ترین سیکیورٹی سیٹنگز کا نیا آپشن بھی شامل
ہیکرز عموماً سگنل سپورٹ چیٹ بوٹ کے طور پر ظاہر ہو کر صارف سے کوڈ حاصل کرتے ہیں تاکہ اکاؤنٹ کنٹرول کیا جا سکے۔ سگنل کی ‘لنکڈ ڈیوائسز’ خصوصیت کو بھی ہیکرز استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں نمبر دو بار ظاہر ہوں یا ‘ڈیلیٹڈ اکاؤنٹ’ دکھائی دے تو اس کا مطلب ہے کہ اکاؤنٹ متاثر ہوا ہے۔
ڈچ حکام نے سائبر ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکومتی اہلکاروں کو خطرے سے آگاہ کیا اور اسے ختم کرنے میں مدد فراہم کی۔
ایم آئی وی ڈی کے ڈائریکٹر وائس ایڈمرل پیٹر ریسنک نے کہا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ہونے کے باوجود، سگنل اور واٹس ایپ جیسے پیغام رسانی کے ایپلیکیشنز خفیہ یا حساس معلومات کے لیے محفوظ چینل نہیں ہیں۔













