ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کے حملوں کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔

واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے ایران کے موجودہ مذہبی حکومتی نظام کو خطے اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہاکہ ایرانی حکومت دنیا کو یرغمال بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے کررہا ہے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور پڑوسی ممالک میں سفارتخانوں پر حملے کر رہا ہے۔

مارکو روبیو نے ایران کو دہشتگرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نظام ریاستی وسائل کو دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران پر حملوں کا مقصد اس کی اس صلاحیت کو ختم کرنا ہے اور امریکی فوج اس مقصد کے حصول کے لیے ایک غیر معمولی آپریشن انجام دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، اور ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات پر حملے کیے جارہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘