بعض سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت کابل کے انتہائی حساس علاقے گرین زون میں متعدد مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود، عسکری کمانڈر حافظ گُل بہادر، بلوچ علیحدگی پسند رہنما بشیر زیب بلوچ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو مطلوب دیگر عسکریت پسندوں کو کابل کے گرین زون میں محفوظ پناہ دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟
یہ افراد کابل کے سفارتی علاقے وزیر اکبر خان اور گرین زون کے دیگر حصوں میں موجود ہو سکتے ہیں، جو غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی اداروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
سفارت خانوں کے قریب ایسے افراد کی موجودگی سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے، اسی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی غیر ملکی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عملے اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے لیے بھی عالمی سطح پر مطلوب افراد کی موجودگی ناقابل قبول ہے، جس پر انہوں نے طالبان حکام کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
2020 میں ایمن الظواہری کا واقعہ
2020 میں القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ویڈیو اور بعد ازاں کابل میں ان کی موجودگی کے انکشاف نے افغان طالبان حکومت کے لیے سفارتی اور سیاسی سطح پر مشکلات پیدا کردی تھیں۔
دراصل 2020 میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
تاہم جب یہ سامنے آیا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل کے حساس علاقے وزیر اکبر خان میں مقیم تھے اور بعد میں 2022 ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے، تو اس واقعے نے طالبان کے اس دعوے پر سوالات کھڑے کر دیے۔
ناقدین اور کئی ممالک نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس صورتحال نے طالبان کی عالمی سطح پر سفارتی قبولیت کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا اور کئی ممالک میں یہ خدشہ مزید مضبوط ہوا کہ افغانستان دوبارہ بین الاقوامی عسکریت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔
کابل کے صدارتی محل سے متعلق دعوے
اسی دوران سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ پاکستان کو مطلوب دہشتگرد نور ولی محسود کو کابل کے صدارتی محل کے قریب دیکھا گیا۔ اگرچہ اس حوالے سے کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس طرح کی اطلاعات نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ آیا افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط بدستور موجود ہیں۔
اس صورتحال نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ٹی ٹی پی جو پاکستان میں لاتعداد خود کُش دھماکوں اور انسانی شہادتوں کی ذمے دار ہے اُس کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کرتی ہے اور افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان مُتقی کی جانب سے بارہا کیا گیا دعویٰ کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اُس سے کوئی تعلق نہیں۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ دعوٰی سراسر غلط اور بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے۔ افغان طالبان کی قیادت ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم پاکستان سمیت کئی ممالک اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کا ردعمل
کابل میں موجود سفارتی حلقوں کے مطابق اگر گرین زون جیسے حساس علاقے میں بین الاقوامی سطح پر مطلوب عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو اس کے سفارتی اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی اداروں کے عملے کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ اور کئی بین الاقوامی این جی اوز نے بھی غیر رسمی رابطوں میں طالبان حکام کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین زون میں ایسے افراد کی موجودگی بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور سیکیورٹی انتظامات کے منافی ہے۔
بعض سفارتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی خدشات برقرار رہے تو کئی ممالک اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے یا کابل میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
ممکنہ سیاسی اور بین الاقوامی نتائج
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو اس سے افغان طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان مسلسل عالمی برادری سے سفارتی تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عسکریت پسند گروہوں سے تعلقات کے الزامات اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے عناصر افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
خبروں اور سیکیورٹی حلقوں کے مطابق ان دہشتگردوں کی سفارتی زون میں موجودگی کسی ممکنہ فوجی کارروائی کو مشکل بنا سکتی ہے کیونکہ اس علاقے میں بہت سی سفارتخانے، بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے عملے کے دفاتر ہیں۔ بعض بین الاقوامی اہلکاروں نے بھی طالبان سے اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
طالبان قیادت اس دعوے کو رد کرتی ہے۔ افغانستان کے عبوری وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ گزین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگرد نہیں، بلکہ اپنے ممالک سے بھاگ آئے افراد ہیں، جبکہ دیگر ممالک اور عالمی اداروں نے ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
احمد مسعود اور مبصرین کی رائے
افغان مزاحمتی گروہ نیشنل ریزیسٹینس فرنٹ این آر ایف کے رہنما احمد شاہ مسعود نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کے باعث افغانستان دوبارہ بین الاقوامی عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔
علاقائی امور کے مبصرین کے مطابق اگر کابل کے محفوظ ترین علاقوں میں مطلوب افراد کی موجودگی کی اطلاعات درست نکلتی ہیں تو یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی دباؤ اور وضاحتوں کا مطالبہ سامنے آ سکتا ہے، جو افغانستان کی موجودہ حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
ایم الظواہری کے واقعے کے بعد طالبان رجیم محتاط ہوگئی، طاہر خان
افغان اُمور کے ماہر اور سینیئر تجزیہ نگار طاہر خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی سطح پر اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں جن کی تصدیق مُشکل ہوتی ہے لیکن 2020 میں ایمن الظواہری کے واقعے کے بعد سے طالبان رجیم بہت محتاط ہوگئی۔
طالبان نے پاکستان کو مذاکرات کا پیغام دیا ہے، حسن خان کا دعویٰ
معروف صحافی اور افغان اُمور کے تجزیہ نگار حسن خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر حامد میر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کابل میں موجود ذرائع کے مطابق طالبان نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر معاملات پر نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے انہوں نے جنگ بندی (سیز فائر) کی شرط رکھی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں، لیکن صفر سے نہیں بلکہ وہیں سے جہاں استنبول اور دوحہ میں بات چیت ختم ہوئی تھی۔
پاکستان نے جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اور کارروائیاں ساتھ ساتھ جاری رہیں گی۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ ایک مؤثر حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔
پاک افغان جنگ کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، مائیکل کوگلمین
مائیکل کوگلمین نے جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی یا ممکنہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو اس کے خطے کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مسلسل سرحدی جھڑپیں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہیں اور یہ صورتحال ایک طویل اور غیر یقینی عسکری تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایسی کشیدگی سے عسکریت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی فائدہ اٹھا سکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی توجہ باہمی تنازعے پر مرکوز ہو جائے گی۔
کُوگل مین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس سے سرحدی علاقوں میں انسانی بحران، نقل مکانی اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں، جو پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔














