امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کے بارے میں بات کرنا ابھی جلد بازی ہوگی، تاہم انہوں نے اس امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ وہ اس وقت ایران کے تیل پر قبضے کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے وینزویلا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں امریکی حکام نے جنوری میں ایک کارروائی میں صدر مادورو کو گرفتار کیا اور اس کے بعد ملک کے تیل کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرتا ہے تو چین کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ ایران کا قریباً 80 فیصد خام تیل چین کو برآمد ہوتا ہے، جو امریکا کا سب سے بڑا جیوپولیٹیکل حریف ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر جنگ کے باعث حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایران دنیا کا نویں نمبر پر تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس کے عالمی تیل کے تناسب میں قریباً 5 فیصد حصہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں دیگر موضوعات پر بھی بات کی، جن میں ایران کے نئے سپریم لیڈر، ووٹنگ قوانین سخت کرنے والے بل، اور ایک فوجی اعزاز کی تقریب شامل تھی۔
ٹرمپ نے ایران کے موجودہ سپریم لیڈر کی انتخاب کے بارے میں بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔














