ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے ‘ایک لیٹر تیل بھی’ باہر نہیں جانے دیا جائے گا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید سخت حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ‘جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے’ اور اگر حملے جاری رہے تو خطے سے تیل کی برآمدات روک دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کے اثرات: بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 300 روپے لیٹر تک جا پہنچی
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی تو امریکا کی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم انہیں اتنی سختی سے نشانہ بنائیں گے کہ نہ وہ اور نہ ہی ان کی مدد کرنے والا کوئی فریق اس خطے کے اس حصے کو دوبارہ سنبھال سکے گا’۔
امریکی صدر نے بعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر بھی کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کوئی کوشش کی تو امریکا اسے پہلے سے ‘20 گنا زیادہ سخت’ جواب دے گا۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے اور ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تیل بردار جہاز وہاں سے گزر نہیں پا رہے، جس کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کو پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑ رہی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم پڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پیر کو تیل کی قیمتوں میں 29 فیصد تک اضافہ ہوا جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی، تاہم منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 10 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔
ادھر تہران میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد شہر میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسز نے خبردار کیا ہے کہ اس آگ سے خوراک، پانی اور ہوا آلودہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔














