ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران بلوچستان کے ساحلی علاقے جیونی سے تعلق رکھنے والا ایک ماہی گیر بحیرۂ عرب میں ڈرون کے ملبے سے جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جیونی کے علاقے گنز سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر طیب بلوچ مچھلی کے شکار کے لیے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ سمندر میں گئے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا کویت کے ال عدیری ایئربیس پر میزائل اور ڈرون حملہ، امریکی مرکز تباہ کردیا
یہ واقعہ ایران اور پاکستان کی سمندری حدود کے قریب کلانی ندی کے مقام کے نزدیک سمندری علاقے فیضک میں پیش آیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسی دوران ایک ڈرون کا ملبہ ان کی کشتی پر آ گرا جس کے نتیجے میں طیب بلوچ شدید زخمی ہو گئے، جبکہ ان کا ساتھی محفوظ رہا۔
US-Israel war on Iran approaching Pakistan's waters. A Gwadar resident from Ganz locality killed by American/Israeli drone in Iranian waters, just miles from Pakistani territory. Pakistan Navy and Air Force on high alert since strikes began.
— BunyanUlMarsoos⚡ (@OperationMasoom) March 7, 2026
زخمی ماہی گیر کو ان کے ساتھی نے فوری طور پر ساحل تک پہنچایا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گرنے والا ڈرون ایرانی تھا، امریکی یا پھر اسرائیلی۔
مزید پڑھیں: آذربائیجان پر ڈرون حملے میں ہمارا ہاتھ نہیں، ایران
تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے اس علاقے میں ایک ڈرون کو مار گرایا تھا جس کا ملبہ سمندر میں جا گرا۔
واقعے کے بعد طیب بلوچ کی میت ان کے آبائی علاقے یونین کونسل گنز منتقل کر دی گئی، جہاں ضروری کارروائی کے بعد انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔












