ترکیہ کے قونصلر جنرل مہمت ایمن شیمشک نے کہا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کرنے کے لیے باہمی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نجی شعبے کو پاک ترک تجارتی و اقتصادی تعلقات بہتر بنانے کے لیے آگے آنا چاہیے، قونصل جنرل ترکیہ کمال سانگو
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انڈسٹریل سیونگ مشینز امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پسمیڈا) کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر بین الاقوامی تجارتی میلوں اور وفود کے سربراہ محمد عمیر، کمرشل اتاشی قونصلیٹ جنرل ترکیہ نورالتین دمیر، سیکرٹری کمرشل اتاشی وسیم زبیر، پسمیڈا کے وائس چیئرمین محمد یاسین، پسمیڈا لاہور چیپٹر کے چیئرمین سید سفیر علی عباس، عثمان علی تارڑ، لاہور چیمبر آف کامرس کے بورڈ ممبرز سید سلمان علی، محمد علی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

پسمیڈا عہدیداران کی جانب سے دونوں ممالک میں صنعتی اور تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹیجک اقدامات بارے تحریری تجاویز پیش کی گئیں، جن کا ترکیہ کے قونصل جنرل نے بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کی جامع اور مؤثر ورکنگ کی بھرپور ستائش کی۔
پسمیڈا کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ گارمنٹس، لیدر، جوتے، ہوزری، ڈینم، نِٹ ویئر، سیونگ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور دوطرفہ تجارتی مفادات کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور دولت مشترکہ تجارتی حجم 2 ہزار ارب ڈالر تک بڑھانے پر متفق
پسمیڈا کے وائس چیئرمین محمد یاسین نے بتایا کہ ملاقات میں پاکستان کی گارمنٹس اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں ٹیکنالوجی، مہارتوں کی تربیت اور تجارتی مواقع کے فروغ پر زور دیا گیا۔
پسمیڈا کی جانب سے ترکیہ کے صنعتی، تربیتی اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں سے باضابطہ تعاون، پاکستانی صنعتکاروں کے لیے تربیتی پروگرامز شروع کرنے اور ترکیہ میں مشترکہ تجارتی نمائشیں منعقد کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
ایسوسی ایشن نے تجویز دی کہ پاکستان میں ترکیہ کی معاونت سے گارمنٹس ٹیکنالوجی اور سرٹیفیکیشن انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے جو پاکستان کے مینوفیکچررز کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سرٹیفیکیشن فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: مینار پاکستان ترکیہ کے پرچم سے روشن، ’یہ پاکستان کا برج خلیفہ ہے‘
انہوں نے بتایا کہ تجاویز میں اسٹارٹ اپس اور انوویشن پلیٹ فارمز کے لیے ترکیہ کے ساتھ تبادلہ اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی تحریری تجاویز میں کہا ہے کہ پسمیڈا اور ترکیہ کے اداروں کے درمیان باقاعدہ تعاون کا فریم ورک قائم کیا جائے، قونصل خانہ ترکیہ کی حکومت، صنعت اور ادارہ جاتی اسٹیک ہولڈرز تک رسائی میں مدد فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعاون کے اصولی معاہدے کے تحت دونوں جانب سے مؤثر رابطوں کے لیے نمائندے نامزد کیے جائیں۔ پسمیڈا اور ترکیہ کی ٹیکسٹائل، گارمنٹس ایسوسی ایشنز، تکنیکی تربیتی اداروں، مینوفیکچرنگ کلسٹرز، برآمدات کی ایسوسی ایشنز اور چیمبرز کے درمیان روابط ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کوریڈور قائم کیا جائے، تصدیق شدہ شراکت داروں کا ڈیٹا بیس، بی ٹو بی میچ میکنگ کی سہولت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے ہونے چاہئیں۔














