امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں تقریباً 150 امریکی فوجی زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
روئٹرز کے مطابق یہ معلومات پہلی بار منظرِ عام پر آئی ہیں، اس سے قبل پینٹاگون نے صرف 8 امریکی اہلکاروں کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر معمولی نوعیت کے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت
ان میں سے 108 اہلکار پہلے ہی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ 8 شدید زخمیوں کو اعلیٰ سطح کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق زخمیوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔
ایران نے تنازعہ کے آغاز 28 فروری سے امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے ہیں اور عرب خلیج کے ممالک میں سفارتی مشنز، ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور تیل کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران کے حملوں کی تعداد جنگ کے آغاز کے بعد کافی کم ہو گئی ہے، کیونکہ امریکی فوج نے ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر اور میزائل لانچر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔












