بلوچستان میں عیدالفطر کی روایات، مزیدار پکوان، مہمان نوازی اور ثقافتی رنگوں سے سجے دسترخوان

اتوار 22 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں صبر، عبادت اور تقویٰ کے بعد اہلِ ایمان کے لیے عیدالفطر خوشیوں اور شکرانے کا پیغام لے کر آتی ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عیدالفطر کو مذہبی عقیدت اور بھرپور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ خصوصاً بلوچستان میں اس تہوار کی اپنی منفرد ثقافتی جھلک اور مہمان نوازی کی روایات دیکھنے کو ملتی ہیں۔

عیدالفطر کو پاکستان میں عام طور پر میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر گھروں میں مختلف اقسام کے میٹھے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ ڈشز سے کی جاتی ہے۔ ہر علاقے اور ثقافت کے لوگ اپنے اپنے روایتی کھانوں کے ذریعے عید کے دسترخوان کو خاص رنگ دیتے ہیں۔

روایتوں اور مہمان نوازی کے حوالے سے بلوچستان کا شمار پاکستان کے نمایاں صوبوں میں ہوتا ہے۔ یہاں بسنے والے مختلف قبائل، جن میں پشتون، بلوچ، ہزارہ اور دیگر زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، عیدالفطر کے موقع پر اپنی روایات کے مطابق خوشیوں کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے عیدالفطر پر بلوچستان کے کون سے سیاحتی مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے؟

عید کے دن کا آغاز نمازِ عید کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔ نماز کے بعد گھروں میں میٹھے پکوانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں عید کے موقع پر شیر خرما دسترخوان کی زینت بنتا ہے جسے بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں فرنی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اکثر گھروں میں عید کی صبح اسی سے آغاز کیا جاتا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر بلوچستان میں مہمان نوازی کی روایت خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ گھروں اور بیٹھکوں میں دسترخوان بچھائے جاتے ہیں جن پر بیکری کی مختلف اشیا کے ساتھ میٹھے پکوان ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ دوست احباب، رشتہ دار اور محلے دار ایک دوسرے کے گھروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کی خوشیوں کو مل بانٹ کر مناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی علاقوں میں یہ دسترخوان 3 سے 4 دن تک مسلسل بچھے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے عید الفطر پر بلوچستان میں کون سے پکوان تیار کیے جاتے ہیں؟

گھریلو دعوتوں میں روایتی کھانوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پشتون علاقوں میں روش اور کابلی پلاؤ عید کے دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بلوچ گھروں میں سجی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ روایتی پکوان نہ صرف مہمانوں کی تواضع کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ بلوچستان کی ثقافتی پہچان بھی سمجھے جاتے ہیں۔

یوں عیدالفطر کے موقع پر بلوچستان میں مذہبی عقیدت، ثقافتی رنگ، مہمان نوازی اور روایتی پکوان مل کر خوشیوں کی ایک ایسی فضا قائم کرتے ہیں جو کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے اور لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp