بنگلہ دیش کے ضلع نارائن گنج میں پولیس نے ڈیوٹی پر موجود ایک اہلکار سے چھینا گیا سرکاری پستول 24 گھنٹوں کے اندر برآمد کر لیا۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر نارائن گنج سٹی کارپوریشن کی عمارت کے سامنے، صدر ماڈل تھانے کی حدود میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 16 ماہ کے دوران 113 مزارات پر حملے، ڈھاکہ ڈویژن سرفہرست
شیتلاکھیا پولیس آؤٹ پوسٹ کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایس ایم لطف الرحمٰن ڈیوٹی پر موجود تھے کہ اسی دوران 3 ملزمان موٹر سائیکل پر آئے اور انہیں خنجر اور دیسی ساختہ ہتھیاروں سے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔
حملہ آور اہلکار کا سرکاری پستول، 2 میگزین اور 16 گولیاں چھین کر فرار ہو گئے۔
واقعے کے بعد زخمی پولیس اہلکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ نارائن گنج صدر ماڈل تھانے میں درج کر لیا گیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ محمد میزان الرحمٰن منشی کی ہدایت پر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم اینڈ آپریشنز) طارق المہدی کی قیادت میں پولیس کی متعدد ٹیموں نے ڈیٹیکٹو برانچ اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد مشترکہ کارروائی شروع کی۔
کارروائی کے دوران پولیس نے محمد مشعل عرف بشال کو بندر تھانے کی حدود میں واقع سوناکاندا بیپاری پاڑا کے علاقے سے گرفتار کر لیا۔
پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار بھی برآمد کر لیے جن میں خنجر اور ایک بڑا چاقو شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش ہاکی سیریز، قومی ٹیم ڈھاکہ پہنچ گئی
پولیس کے مطابق مشعل اور اس کے ساتھیوں زیام عرف رفیع (34)، ڈاکو جیول (26) اور ارہم (32) کے خلاف آرمز ایکٹ 1878 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تمام ملزمان نارائن گنج کے رہائشی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے خلاف پہلے بھی ایک مجرمانہ مقدمہ درج ہے، تفتیش کے دوران مشعل نے پولیس کو اس مقام کے بارے میں بتایا جہاں چھینا گیا پستول چھپایا گیا تھا۔
اس اطلاع پر پولیس نے بندر تھانے کے علاقے ریلی کے رہائشی علاقہ میں ایک اور چھاپہ مار کر رات تقریباً 3 بج کر 15 منٹ پر ولسن روڈ پر ایک گھر کے سامنے پڑی خالی سیمنٹ کی بوری سے چھینا گیا پستول، 2 میگزین اور 16 گولیاں برآمد کر لیں۔












