وائرڈ ہیڈفونز کو ایک زمانے میں متروک ہوتا سمجھا گیا تھا خاص طور پر جب ایپل نے سنہ 2016 میں آئی فون سے ہیڈفون جیک ہٹایا لیکن حالیہ مہینوں میں یہ پرانی تکنیک دوبارہ مقبول ہو رہی ہے کیونکہ صارفین بہتر صوتی معیار اور سادگی کے ساتھ موسیقی سننے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف برانڈز کے ہیڈفونز میں زہریلے کیمیکلز کا انکشاف، نوجوانوں کی صحت کو خطرہ
متعدد صارفین نے وائرڈ ہیڈفونز کی طرف رجوع کیا ہے کیونکہ یہ عموماً بلیوٹوتھ سے بہتر صوتی تجربہ فراہم کرتے ہیں اور کنکشن کے مسائل بھی کم ہوتے ہیں۔
پورٹلینڈ کی سماجی کارکن آرین گروسِن کہتی ہیں کہ وائرڈ ہیڈفونز استعمال کرنا آرام دہ محسوس ہوتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ وہ واقعی کچھ سن رہی ہیں۔ اینالٹکس فرم سرکانا کے مطابق وائرڈ ہیڈفونز کی فروخت 2025 کے دوسرے نصف میں تیزی سے بڑھی اور سال 2026 کے پہلے 6 ہفتوں میں آمدنی میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرڈ ہیڈفونز نہ صرف آواز کے معیار میں بہتر ہیں بلکہ یہ فیشن اور ثقافتی علامت بھی بن گئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں یہ ایک کلاس اسٹیشن کی نشانی سمجھے جاتے ہیں جہاں وائرلیس ہیڈفونز کا مستقل استعمال سادگی اور حقیقی تجربے کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
وائرڈ ہیڈفونز کا رجحان صرف تکنیکی فائدے تک محدود نہیں۔ صارفین بلیوٹوتھ کے پیچیدہ اور اکثر غیر مستحکم کنکشنز سے تنگ آ کر دوبارہ وائرڈ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: آتش بازی: بیماروں خصوصاً مائسو فونیا کے شکار افراد کے لیے ایک مشکل لمحہ
اس کے علاوہ، نئے ماڈلز میں یو اسی بی یا لائٹننگ کنکشن کے ساتھ وائرڈ ہیڈفونز دستیاب ہیں، یا پرانے 3.5mm جیک کے لیے ڈونگل استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ رجحان صرف پرانے آلات کی واپسی نہیں بلکہ ایک کلچر کی علامت بھی ہے جہاں لوگ سادہ اور قابل اعتماد تکنیک کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
نیو یارک کے آڈیو 46 اسٹور میں ہیڈفونز کے ماہر ڈیلینی زرنیکوسکی کے مطابق لوگ وائرڈ ہیڈفونز آزمانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بلیوٹوتھ کے مقابلے میں بہتر آواز اور زیادہ انتخاب فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: خبردار! ہیڈ فونز کا مسلسل استعمال قوت سماعت متاثر کر رہا ہے
الغرض وائرڈ ہیڈفونز اب نہ صرف صوتی معیار کے لیے بلکہ فیشن، سادگی اور ایک قسم کی تکنیکی خودمختاری کے لیے بھی دوبارہ مقبول ہو چکے ہیں۔














