کچھ عرصے سے یہ بات ہم متواتر کہتے آ رہے ہیں کہ جب کوئی بڑی سلطنت ڈوبتی ہے تو وہ جنگ کی طرف جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جنگ کی طرف کیوں جاتی ہے؟ وجہ بہت سادہ سی ہے، ڈوبتی سلطنت کا غرق ہونا عالمی سطح پر زیر بحث آجاتا ہے۔ یہ بحث تجزیہ کاروں کی سطح پر بھی ہوتی ہے، اور بڑے جیو پولیٹکل پلیئرز اس کے اشارے دینے لگتے ہیں۔ ایک اور چیز اس میں یہ بھی شامل ہوجاتی ہے کہ چھوٹے ممالک میں سے جو ڈوبتی سلطنت کے زیادہ رگڑے میں رہے ہوتے ہیں وہ ایکسائٹمنٹ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں مل کر ڈوبتی سلطنت کے لیے ایک بڑا نفسیاتی دباؤ بن جاتی ہیں۔
مگر بات بس اتنی سی نہیں ہوتی، بلکہ بڑی سلطنت کے ڈوبنے کی وجوہات تو کئی ہوتی ہیں مگر کلیدی وجہ معاشی ہوتی ہے۔ سو ایسی سلطنت ایسے وسائل کی ضرورت شدت سے محسوس کرتی ہے جو اس کی معیشت کو پہلے سہارا پھر قوت فراہم کرنے لگیں۔ ان حالات میں ڈوبتی سلطنت کو وسائل کے حصول اور عالمی سطح پر بنتے نفسیاتی دباؤ سے نکلنے کے لیے جنگ ہی واحد شاٹ کٹ نظر آتا ہے۔ وہ جنگ جس کے ذریعے وہ دنیا پر اپنی دھاک بھی بٹھائے رکھنا چاہتی ہے اور لوٹ مار کرکے وسائل کا حصول بھی ممکن بناتی ہے۔
اس کی تازہ مثال دیکھیے، کل ہی امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ٹی وی انٹرویو میں ان دونوں مقاصد کی جانب کھل کر بہت جذباتی انداز میں اشارہ کیا۔ لنزے گراہم نے کہا:
’حالیہ جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں رہےگا، یہ ایک نیا مشرق وسطیٰ ہوگا اور ہم اس سے بہت پیسہ کمائیں گے۔‘
اس بیان میں مشرق وسطیٰ کے بدلنے سے لنزے گراہم دھاک جمانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ بہت سا پیسہ کمانے کی بات سے وہ بتا رہے تھے کہ ہم اپنی ڈوبتی معیشت کے لیے وسائل کا بندوبست بھی یہیں سے کریں گے۔
اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ڈوبتی سلطنتوں کی اس طرح کی کوششیں ہمیشہ ہی ناکام ہوئی ہے۔ برطانیہ اور سوویت یونین دونوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اور حالیہ جنگ میں بھی امریکا کا حشر پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس جنگ کے اب تک کے نتائج نے امریکا کو کتنا بوکھلا رکھا ہے اس کا اندازہ سینیٹر لنزے گراہم کے ہی خطا اوسان دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ لنزے گراہم کے جس بیان کا ہم نے حوالہ دیا، اس بیان کے 12 گھنٹے بعد ان کا نیا بیان سامنے آیا جس میں وہ سعودی عرب پر اپنا غصہ تارتے نظر آئے۔ لنزے گراہم کا یہ غصہ دیکھ کر کوئی بھی جیو پولیٹکل تجزیہ کار بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ سعودی عرب یقیناً بہت سمجھداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ تشویش کی بات تب ہوتی جب لنزے گراہم سعودی عرب کی تعریف کرتے۔ سو سعودی کراؤن پرنس داد کے مستحق ہیں، اور امریکا کا ان سے ناراض ہونا ان کے کریڈٹ میں جاتا ہے۔
جب ہم امریکا کو ڈوبتی سلطنت کہتے ہیں تو ہمارے وہ دوست ناراض ہوجاتے ہیں جن کا دھندہ ہی مغربی سفارتخانوں سے ڈونیشن کا حصول رہا ہے۔ وہ ڈونیشنز جو ان ممالک کی جانب سے پاکستان کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دی جاتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم امریکا کو ڈوبتی سلطنت یا مغرب کو ڈوبتی تہذیب کہہ کر خواہش کو خبر بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟ نہیں، ہم اوریا مقبول جان نہیں ہیں۔ ہم جیوپالیٹکس کا تجزیہ جیوپولیٹکل اصولوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ جس میں وہ زمینی حقائق ہی اصل اہمیت رکھتے ہیں جو بالکل واضح نظر آرہے ہوتے ہیں۔ ہم نے ان موضوع کو ضعیف یا من گھڑت روایات کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کبھی بھی نہیں کی۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں صرف ایک ہفتے میں ہی اپنا بھرکس نکوالنے والا وہی امریکا ہے جس نے ویتنام کی جنگ 19 سال 6 ماہ تک لڑی تھی؟ وہاں تو امریکا گراؤنڈ پر بوٹس بھی اتار چکا تھا اور اس کے باوجود بھاری جانی نقصان کے ہوتے وہ لگ بھگ 20 سال میدان جنگ میں رہا۔ اور جب شکست کھا کر اس جنگ سے نکلا تو تب بھی اس کی طاقت اتنی تھی کہ محض 6 سال بعد ہی وہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے بڑے اسپانسر کے طور پر سامنے آگیا۔ اور بقول اس کے اسی نے سوویت یونین کو شکست دی۔ کیا آپ کو کسی بھی اینگل سے لگتا ہے کہ آج کی تاریخ میں مشرق وسطیٰ میں مار کھاتا امریکا وہی امریکا ہے؟
المیہ یہ ہے کہ ہمارے میڈیا کے پاس کوئی بڑا جیوپولیٹکل تجزیہ کار موجود نہیں، ہمارے تجزیہ کار اسی کو کل معراج سمجھتے ہیں کہ اپنے قاری کو یہ بتا سکیں کہ ان کے ذرائع نے انہیں پکی خبر دی ہے کہ میاں صاحب آج کل سری پائے کا ناشتہ نہیں کر رہے۔ یا یہ کہ ان کے ذرائع نے ان کو بتایا ہے کہ خان صاحب کو دیسی مرغے فراہم کرنے والے مرغی فروش کا بل بروقت ادا نہیں ہو رہا۔ لیکن جب جنگ چھڑ جائے تو پھر یہی تجزیہ کار جنگی ماہر بھی بن جاتے ہیں، اور یوں واضح ہوجاتا ہے کہ ان کو تو یہ خبر بھی نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، اور آج کا امریکا وہ 35 سال سال قبل والا امریکا رہا ہی نہیں۔
یوں لے دے کر ہمارے نیوز چینلز کے پاس یہی آپشن بچ جاتی ہے کہ امریکا کے کسی تھنک ٹینک سے وابستہ ایسا ماہر آن لائن لے لیا جائے جس کی ساری وفاداری امریکا سے ہی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک نام نہاد ماہر دو روز قبل یہ کہتا پایا گیا کہ امریکا کے لیے آبنائے ہرمز کھلوانا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ کیوں مسئلہ نہیں؟ کیونکہ 80 کی دہائی میں جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تھی تو شدید نقصان کے باوجود امریکا نے کھلوا لی تھی۔ یعنی ماہر موصوف کو لگتا ہے دنیا آج بھی 80 کی دہائی میں کھڑی میں ہے، اور وہ گویا بالکل ہی بے خبر ہیں کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن ایرانی سمندری حدود سے 1000 کلومیٹر دور بحیرہ ہند میں مفروری کا وقت گزار رہا ہے۔ اور ماہر موصوف یہ بھی نہیں جانتے کہ امریکی یا اسرائیلی فضائیہ اب تک ایران پر ایک بھی ایئر اسٹرائیک ایسی نہیں کرسکی جس کے لیے وہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوئی ہو۔ سوشل میڈیا کا دور ہے، پرواز کرتے میزائلوں کی ویڈیوز اور تصاویر تو سب کے سامنے ہیں۔ کسی نے ایسے امریکی طیارے کی تصویر یا ویڈیو دیکھی جو ایران میں پرواز کر رہا ہو ؟ اگر نہیں تو پھر امریکا کیا آبنائے ہرمز دم درود سے کھلوائے گا؟
ماہر موصوف نے میزبان کو خوشخبری سنائی کہ امریکا کا تیسرا بحری بیڑا چل پڑا ہے، بس اس کے پہنچنے کی دیر ہے۔ جوں ہی وہ آئے گا آبنائے ہرمز کھل جائے گی اور ہر طرف تیل کی نہریں پھر سے بہنا شروع ہوجائیں گی، مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ تیسرا بحری بیڑہ ابھی امریکا کی ہی سمندری حدود میں تھا کہ یہ خبر آگئی کہ مغرب زدگان وطن کے قائد ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ٹیلیفون کال کی ہے اور ایک گھنٹے تک جنگ بندی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جنگ کے محض آٹھویں دن ہی پیوٹن کو فون کال؟ یہ ناک کٹنے جیسی بڑی خبر ہے۔ اس طرح کی خبر آئے تو دیکھنا بس یہ ہوتا ہے اس خر کے ارد گرد ماحول کیا چل رہا ہے؟
اس خبر کے اردگرد کا ماحول یہ ہے کہ امریکی نیوز چینل پی بی ایس نے اس ٹیلیفون کال کے فوراً بعد خبر دی کہ صدر ٹرمپ نے ان کے رپورٹر سے کہا ہےکہ جنگ تقریباً ختم ہے۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک خطاب میں کہاکہ ہم تھوڑا مٹر گشت کے لیے نکلے تھے، کیونکہ یہ بہت ضروری تھا۔
مٹر گشت کا مطلب یہ کہ ہم بس ذرا مشرق وسطیٰ تک ٹہلنے گئے تھے، کوئی سیریس ایشو ہے ہی نہیں۔ اب یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مٹر گشت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر جنگ ڈینگیں کتنی بڑی بڑی مار چکے ہیں۔ ایک اور چیز یہ سامنے آئی کہ ایران نے آفیشلی کنفرم کیا کہ روس، چین اور فرانس سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی کے لیے رابطہ کیا ہے، مگر اس سے زیادہ اہم یہ کہ ٹرمپ پیوٹن ٹیلیفون کال والی رات ایرانی حملوں میں واضح کمی نوٹ کی گئی۔ جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پس پردہ جنگ بندی کی کوئی سنجیدہ کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے سیز فائر کی غلطی تو ایران نہیں کرے گا، لیکن پس پردہ چل رہی کوششوں کے دوران اس کے حملے نسبتاً کم شدت والےہوسکتے ہیں۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جس ٹیلیفون کال کے بعد مذکورہ تبدیلیاں رونما ہوتی نظر آئی ہیں وہ کال کس نے کی؟ اگر کال صدر پیوٹن نے کی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ صدر پیوٹن فریقین کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس صورت میں دیکھنا یہ بنتا ہے کہ فریقین ٹھنڈے ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ لیکن فون کال تو جارحیت کرنے والے امریکی صدر نے کی ہے، جس کے متعلق عالمی تجزیہ کار یہی کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے پیوٹن سے یہی کہا ہوگا۔
’پایان! ساڈی جان بچاؤ‘
اگرچہ امریکی و اسرائیلی جارحایت کے دوران عالمی تجزیہ کاروں کا فوکس اس بات پر رہا ہے کہ اس جنگ کا مقصد نیتن یاہو کے ایجنڈے کی تکمیل تھا، مگر بات اتنی سی ہے نہیں۔ فی الحقیقت اس جنگ میں صدر ٹرمپ ایک تیر سے کئی شکار کا خواب لے کر اترے تھے۔ مثلاً فتح کی صورت ان کا پہلا شکار یہ ہوتا کہ مزاحمتی ایران ختم ہوجاتا اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کی واحد طاقت بن کر خطے پر مسلط ہوجاتا۔ دوسرا شکار یہ کہ روس بحیرہ کیسپئن والی جانب سے غیر محفوظ ہوجاتا، اور یوں اسے یوکرین میں جھکنا پڑتا۔ تیسرا شکار یہ کہ چین کو ایرانی تیل سے محروم کرکے اس کی ترقی کا عمل بڑی رکاوٹ سے دوچار کردیا جاتا، اور چوتھا شکار یہ کہ اسرئیل کو آزاد ایران میں اڈے فراہم کرکے پاکستان کو بھی گھیر لیا جاتا، اور یوں اسلامک بم کو صہیونی بم بنا کر اسرائیل منتقل کردیاجاتا۔ یہ ہے وہ کھیل جو بگڑا ہے۔ سو اگر جنگ بندی کی جانب واقعی کوئی پیش رفت ہوجاتی ہے تو اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ ایران کی ممکنہ فتح کس قدر غیر معمولی و ہمہ جہت ہوگی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













