امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والا حملہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف کے تعین میں غلطی کا نتیجہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں بچوں سمیت 175 افراد ہلاک ہوئے، جسے حالیہ دہائیوں کی سب سے بھیانک فوجی غلطیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو شجرہ طیبہ ایلیمینٹری اسکول پر ہونے والا ٹوما ہاک میزائل کا حملہ امریکی فوج کی کارروائی کے دوران پیش آنے والی غلطی تھی۔ اصل ہدف ایک ایرانی فوجی اڈہ تھا، لیکن پرانے ڈیٹا کے استعمال کی وجہ سے میزائل اسکول کی عمارت پر جا گرا۔
US likely responsible for deadly Iran school strike after targeting error, report says
➡️ https://t.co/JgmqdsBogL pic.twitter.com/Ju3HSOUxXG— FRANCE 24 English (@France24_en) March 11, 2026
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے افسران نے ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ پرانا ڈیٹا استعمال کیا، اور یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ ڈیٹا کو ڈبل چیک کیوں نہیں کیا گیا۔ امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کئی اہم سوالات کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے۔
اخبار نے واضح کیا کہ اس مہلک حملے میں بچوں سے بھرا اسکول نشانہ بنایا جانا ایک بڑی اور خوفناک فوجی غلطی ہے، اور چونکہ ٹوما ہاک میزائل صرف امریکی فوج استعمال کرتی ہے، اسی لیے اس کا ذمہ دار براہِ راست امریکا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے اس حملے کا الزام ایران پر لگا چکے ہیں، تاہم مذکورہ رپورٹ کے مطابق حقیقت میں یہ غلطی امریکی فوج کی جانب سے ہوئی اور اسکول کے بچوں کی ہلاکت کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔












