برطانیہ کے میڈیا اور پرائیویسی ریگولیٹرز نے جمعرات کو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ بچوں کو اپنی سروسز سے دور رکھنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کریں۔
ریگولیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ کمپنیاں اپنی کم از کم عمر کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور
حکومت بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر سخت پابندیوں پر غور کر رہی ہے، جس میں زیرِ بحث تجویز کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کو ان پلیٹ فارمز سے روکنے کی منصوبہ بندی شامل ہے، جو آسٹریلیا کے حالیہ اقدام سے مشابہت رکھتی ہے۔
برطانیہ کے ریگولیٹرز، اوفکام اور انفارمیشن کمشنر آفس نے کہا ہے کہ وہ الگوردمک فیڈز کی وجہ سے بچوں کو نقصان دہ یا نشہ آور مواد تک رسائی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے پریشان ہیں۔
UK watchdogs press Meta, TikTok, Snap and YouTube to block children
Read more: https://t.co/vXJtXUG6UE#lka #srilanka #adaderana #news #lanka #srilankanews #UK #TikTok #YouTube pic.twitter.com/rTFqkddZTt
— Ada Derana (@adaderana) March 12, 2026
اوفکام کی چیف ایگزیکٹو میلینی ڈاؤز نے کہا کہ یہ آن لائن سروسز گھر کے ہر کونے میں معروف ہیں، لیکن وہ اپنے مصنوعات میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح نہیں دے رہی ہیں۔
’یہ رویہ اب فوراً تبدیل ہونا چاہیے، ورنہ اوفکام کارروائی کرے گا۔‘
اوفکام نے اپنی آن لائن سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کے تازہ ترین مرحلے میں فیس بک اور انسٹاگرام، روبلاکس، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 اپریل تک یہ واضح کریں کہ وہ کس طرح عمر کی جانچ سخت کریں گے، بچوں سے اجنبیوں کے رابطے کو محدود کریں گے، فیڈز کو محفوظ بنائیں گے اور نئی پروڈکٹس پر کم عمر صارفین پر تجربات بند کریں گے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
آئی سی او نے بھی انہی پلیٹ فارمز کو ایک کھلے خط میں کہا کہ وہ ’جدید اور قابل عمل‘ عمر کی تصدیق کے آلات اپنائیں تاکہ 13 سال سے کم عمر بچے ان سروسز تک رسائی نہ حاصل کر سکیں جو ان کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں۔
آئی سی او کے چیف ایگزیکٹو پال آرنولڈ نے کہا ہے کہ اب جدید ٹیکنالوجی سب کی پہنچ میں ہے، لہٰذا کوئی عذر قابل قبول نہیں۔
میٹا کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی پہلے ہی اے آئی کی بنیاد پر عمر کی شناخت اور اندازہ لگانے کے آلات استعمال کرتی ہے اور نوعمر صارفین کو ایسے اکاؤنٹس میں رکھتی ہے جن میں حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈنمارک نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی
ترجمان نے مزید کہا کہ عمر کی تصدیق ’ایپ اسٹور کی سطح پر مرکزی طور پر‘ ہونی چاہیے تاکہ خاندانوں کو کئی بار ذاتی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
یوٹیوب کے ترجمان نے کہا کہ پلیٹ فارم عمر کے لحاظ سے مناسب تجربات فراہم کرتا ہے اور وہ اوفکام کے اس رویے پر حیران ہے کہ وہ ’رسک بیسڈ‘ طریقہ کار سے ہٹ گیا ہے، اور ریگولیٹر سے درخواست کی کہ وہ ان سروسز پر توجہ دے جو قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
روبلاکس، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز
اوفکام کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے، جبکہ آئی سی او کمپنی کی سالانہ عالمی آمدنی کے 4 فیصد تک جرمانہ عائد کرسکتا ہے۔
پرائیویسی واچ ڈاگ نے گزشتہ ماہ ریڈاٹ پر تقریباً 14.5 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے مؤثر عمر کی جانچ متعارف نہیں کروائی اور بچوں کے ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس کیا۔














