شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روز سمندر کی سمت 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل فائر کیے۔

یہ میزائل ایسے وقت میں داغے گئے جب امریکا اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی پیانگ یانگ کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کی ایران جنگ میں شمولیت پر میمز وائرل

جاپان کے کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسی شے کی نشاندہی کی جو غالباً بیلسٹک میزائل تھا اور سمندر میں جا گرا۔

جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ میزائل بظاہر جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب واقع علاقے سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر قریباً ایک بج کر 20 منٹ پر داغے گئے اور ان کا رخ ملک کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب تھا۔

شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر پابندیاں

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا گزشتہ 2 دہائیوں سے جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے مختلف بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات کر رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے مؤثر ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

اسی وجہ سے 2006 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پیانگ یانگ پر متعدد پابندیاں عائد ہیں، تاہم تجارت، معیشت اور دفاعی شعبوں میں رکاوٹوں کے باوجود شمالی کوریا اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں

دوسری جانب جنوبی کوریا اور امریکا نے اس ہفتے اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کی ہیں۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی ممکنہ فوجی دھمکیوں سے نمٹنے کی تیاری کا جائزہ لینا ہے۔

ہفتے کے روز امریکا اور جنوبی کوریا کے سینکڑوں فوجیوں نے دریا عبور کرنے کی مشقیں بھی کیں، جن میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔ ان سرگرمیوں کی نگرانی مشترکہ افواج کے کمانڈر نے کی۔ جنوبی کوریا میں امریکا کے قریباً 28 ہزار 500 فوجی اور لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن تعینات ہیں۔

شمالی کوریا ماضی میں بھی ایسی مشترکہ مشقوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یہ دراصل اس کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری ہے۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے اسکولوں میں روسی زبان لازمی مضمون قرار

ڈونلڈ ٹرمپ سے جنوبی کوریا کے وزیراعظم کی ملاقات

ادھر جمعرات کو جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم من سوک نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

بعد ازاں کم من سوک نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ براہ راست بات چیت کا موقع حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے