امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی متوقع ملاقات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کے دوسرے دور میں چین کا پہلا سفر ہے، جس کا مقصد پچھلے اکتوبر میں جنوبی کوریا میں دونوں رہنماؤں کے ہاتھ ملانے کے بعد طے شدہ تجارتی جنگ کے معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ‘اے آئی ایکشن پلان’ کا اعلان، کیا امریکا چین کی مصنوعی ذہانت میں ترقی سے خوفزدہ ہے؟
چین جو عام طور پر اس طرح کے دوروں کو انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتا ہے تاکہ کسی قسم کی شرمندگی سے بچا جا سکے، ٹرمپ کے آزادانہ طرز عمل کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق چینی حکام اس اجلاس کے لیے زیادہ سنجیدہ اور مفصل تیاریوں کی توقع رکھتے تھے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ملاقات کی تیاریاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور بیجنگ کے ساتھ باقاعدہ رابطے ہو رہے ہیں۔
کاروباری حلقے تشویش میں ہیں کہ ابھی تک امریکی وفد میں شامل ہونے کے دعوت نامے جاری نہیں ہوئے، جس سے اجلاس کے ممکنہ اقتصادی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اقتصادی اور تجارتی امور
صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان ملاقات سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ اس ہفتے پیرس میں چینی نائب وزیراعظم سے ملاقات کریں گے تاکہ سربراہان کے اجلاس میں اعلان کیے جانے والے اقتصادی اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا نے حال ہی میں مختلف ممالک بشمول چین کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز کیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں بھونچال آیا ہے۔
تائیوان اور دیگر سلامتی کے مسائل
تائیوان کا معاملہ بھی ایک تشویش کا باعث ہے، جہاں بعض امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ صدر شی 2027 میں جزیرہ پر حملے کا ارادہ رکھ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا تائیوان کو مزید ہتھیار فراہم کیے جائیں یا نہیں، حالانکہ چینی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے مسائل پیدا ہوں گے۔
ایران جنگ کا اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ایران جنگ ہے، جو اگر اپریل تک جاری رہی تو اجلاس کا مرکزی موضوع بن سکتی ہے۔ چین نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ایران کی براہِ راست حمایت یا واشنگٹن کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کیا ہے۔
چین کی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق چین اس اجلاس میں کسی ثالثی کردار سے گریز کرے گا اور صدر شی ممکنہ طور پر اجلاس کو اپنی ریاستی استحکام کی تصویر اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں گے، جبکہ ایران کے معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کے ہاتھوں شکست کھا جائیگا‘، دنیا بھر میں چینی پروفیسر کی پیشگوئی کی گونج
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے مطابق چینی حکام کسی بھی عوامی جھگڑے یا اختلاف کو اجاگر کیے بغیر اجلاس کو پرامن انداز میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ ٹرمپ کے غیر متوقع رویے کے اثرات کم ہوں۔














