رپورٹ: احتشام الحق
برسوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے، ایک ماں اور اس کا بیٹا سحری کے وقت گلی گلی، محلہ محلہ جا کر روزہ داروں کو جگاتے ہیں۔
علی پور کے اس جوڑے کا ہر رمضان میں یہی معمول ہے۔ رات کے آخری پہر وہ موٹر سائیکل پر مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی روایتی آوازوں سے لوگوں کو سحری کے لیے بیدار کرتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے اس روایت پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے؛ کچھ لوگ اسے سراہتے ہیں تو کچھ اسے ایک منفرد اور نایاب روایت قرار دیتے ہیں۔
بیٹے نے بتایا، ’یہ کام ہم کافی عرصے سے کر رہے ہیں، میری والدہ بھی ہر بار میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ لوگوں کو سحری کے لیے جگاتے ہوئے دل کو سکون ملتا ہے۔ یہ کام میں بچپن سے کر رہا ہوں۔‘
ان کی والدہ نے کہا، ’میرے شوہر کے انتقال کے بعد یہ خیال آیا کہ رمضان میں روزہ داروں کو سحری کے لیے جگایا جائے۔ تب سے آج تک ہم دل کی تسلی اور عبادت کے جذبے سے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
تیزی سے بدلتے ہوئے شہروں میں، یہ ماں بیٹا آج بھی سحری جگانے کی پرانی روایت کو جیتے جاگتے انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو نہ صرف ایک رسم بلکہ محبت اور خدمت کا پیغام بھی دیتی ہے۔












