کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا

اتوار 15 مارچ 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

   ماہ رمضان کا آخری عشرہ بلکہ آخری ہفتہ چل رہا ہے۔ 4-5 دن بعد عید آجائے گی اور پھر سے ہم لوگ پرانی روٹین پر لوٹ جائیں گے۔ رمضان میں ہر ایک کی روٹین تبدیل ہوتی ہے، مگر سب سے زیادہ اس کا اثر خواتین پر پڑتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں رمضان کے مہینے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ہماری خواتین کا رہا، جن کی وجہ سے آپ نے، ہم سب نے رمضان کے روزے رکھے۔ سحر، افطار سب اچھے سے ہوئے۔

   ہماری ان خواتیں نے پورا مہینہ اپنی نیند کی قربانی دے کر سب گھر والوں کو سحر، افطار کرایا، پھر چھوٹے بچوں کو ناشتہ کرا کر سکول بھیجا، بزرگوں کے کھانے پینے کے انتظامات کیے، اپنے  نمازیں، تلاوت، تسبیحات، نوافل وغیرہ پڑھیں۔

    اب یہ حق بنتا ہے کہ اپنے استطاعت اور ہمت کے مطابق عید کے روز گھر کی خواتین کو کوئی اسپیشل انعام/تحفہ دیں۔  اپنے وسائل کے مطابق ہی سہی، پیسے نہیں تو پھول ہی پیش کریں، اپنی بیوی کو ایک گلاب کی کلی ہی پیش کر دیں۔ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کی اس کوشش، محنت اور قربانی کو کھلے دل سے تسلیم ہی کر لیں، اس کا اعتراف کریں۔ کبھی قدردانی کے چند جملے بھی قیمتی تحفے سے کم نہیں ہوتے۔ انہیں ایک اچھا سا خط لکھ دیں۔

یہ بھی پڑھیں:اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

  بائی دا وے ویسے کبھی آپ نے اپنی اہلیہ محترمہ کو شادی کے بعد کوئی محبت بھرا خط لکھا ہے؟ ان کی سالگرہ پر یا اپنی ویڈنگ اینیورسری پر ہی؟ مجھے اس کا جواب معلوم ہے، مگر پھر بھی پوچھ لیا۔ ویسے خط نہیں تو واٹس ایپ پر پیار بھرا میسج آف تھینکس ہی لکھ دیں۔  سب کے سامنے انہیں سراہیں، ان کی تعریف کریں۔ ان کی خدمت، محبت، کارگزاری کا دل کھول کر اعتراف ہی کر لیں۔

 یقین مانیں رمضان میں ہماری خواتین کی زندگیاں مردوں سے کئی گنا زیادہ مشکل، کٹھن اور صبرآزما ہوتی ہیں۔ اللہ انہیں اس کا اجر عظیم دے۔ بندوں کا بھی فرض ہے کہ وہ شکر گزار بنیں، اپنے حصے کا فرض تو نبھائیں۔

   مجھے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ ہم مرد حضرات اپنی بیویوں کے گھر میں کنٹری بیوشن کو کھلے دل سے نہیں سراہتے۔ ایسا نہیں کہ مرد خواتین دشمن ہیں۔ میں نے ہر مرد کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی والدہ محترمہ کا قدردان ملے گا، ان کو دل کھول کر سراہے گا، ان کی عظمت بیان کرے گا۔ یہ بہت ہی اچھا اور قابل قدر فعل ہے۔ ماں کا رشتہ دنیا کا شاید سب سے بے لوث اور مخلصانہ رشتہ ہے۔ جتنا بھی اس پر بات کی جائے، وہ کم ہے۔ تاہم اپنے بچوں کی ماں کا بھی حق کم نہیں۔ اس کا بھی دل کھول کر اعتراف کرنا چاہیے۔ اگر مرد حضرات ایسا کرنے لگ جائیں تو یقین جانیں بہت سے گھریلو جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔

 ’رمضان عیدی‘

   رمضان کے ان آخری دنوں کی مناسبت سے ایک پرانا واقعہ یاد آیا، ایک آدھ بار پہلے بھی کبھی اس کا تذکرہ کیا تھا۔ وہ ہے ’رمضان عیدی‘ کا تصور ۔ بہت سال پہلے ہوسٹل میں ایک دوست کے عزیز نے گپ شپ میں ایسی بات بتائی کہ وہاں بیٹھے سب لوگ سحر زدہ ہو گئے۔ ہاسٹلز میں عام رواج ہے کہ کسی ایک لڑکے کے کمرے میں 2-4 دوست اکٹھے ہوگئے اور گھنٹوں گپ شپ چلتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

   وہیں ایک صاحب نے جو کسی لڑکے کے مہمان تھے، بتایا کہ میں ہر سال رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی اپنی عیدیاں بانٹ دیتا ہوں۔ ہم سب حیران ہوئے کہ رمضان میں عیدی کون دیتا ہے، اس کا تعلق تو عید کے دن سے ہے۔ محفل میں حیرت کے آثار دیکھ کر آرام سے بولے: ’دیکھیں عیدی دینے کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہ کسی کے کام آ سکے۔ میں اپنی ماہانہ آمدنی سے ایک خاص تناسب سے رقم الگ کر لیتا ہوں، عید سے 8-10 دن پہلے اپنی بہنوں، بھانجیوں، بھتیجیوں کے گھر جا کر ہر ایک کو عیدی کا لفافہ دے دیتا ہوں۔ اپنے ان قریبی رشتے داروں میں جو نسبتاً کم وسیلہ ہیں، ان کا حصہ زیادہ رکھ لیا جاتا ہے۔اسی طرح بچوں کے لیے الگ لفافے بنا رکھے ہیں، خاندان میں بعض گھر ایسے ہیں جنہیں اس کی ضرورت ہے، ان کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔2-3 ہزار بھی ان کے کسی نہ کسی کام تو آ جاتے ہوں گے ۔ اس رمضان عیدی کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی انکار نہیں کرتا، ورنہ ویسے عید کے لیے مدد کرنا چاہوں تو کئی عزیز لینے سے انکار کر دیتے ہیں، عیدی سے کون منع کر سکتا ہے؟ عید والے دن عیدی دینے کے بجائے اپنے عزیز و اقارب کے گھر پھل، کیک وغیرہ لے جاتا ہوں۔

 یہ بات سن کر ہم سب حیران رہ گئے۔ ایک دوست نے پوچھا کہ طریقہ تو آپ کا بہت ہی خوب ہے، مگر یہ کہاں سے سیکھا؟ یہ سن کر مسکرائے اور بولے کہ ایک دوست سے، جس نے مجھے شادی پر بر وقت سلامی دے کر یہ نکتہ سکھایا۔ پھر بولے کہ میری شادی ہونے والی تھی، اخراجات توقع سے کچھ زیادہ ہو رہے تھے، وسائل کم تھے، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔ دفتر سے چھٹیاں لے چکا تھا۔

  ایک روز میرے دفتر کے ایک کولیگ اور محترم دوست گھر آئے۔ انہوں نے کئی سال باہر گزارے تھے اور ایک خاص قسم کا قرینہ ان کی زندگی میں تھا۔ مجھے گھر سے باہر بلایا اور ایک موٹا سا لفافہ کوٹ کی اندر والی جیب سے نکالا اور مجھے پکڑا دیا، کہنے لگے کہ یہ آپ کی شادی کی سلامی ہے۔ حیرت سے میں نے انہیں کہا، مرزا صاحب شادی تو ایک ہفتے بعد ہے، نکاح والے دن آپ سلامی بھی دے دیجیے گا۔ انہوں نے خاموشی سے وہ لفافہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور بولے، بھائی میں سلامی شادی سے پہلے دینے کا قائل ہوں۔ اس کی افادیت بھی پہلے ہی ہے، بعد کا تو تکلف ہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلتے بنے، گھر جا کر میں نے لفافہ کھولا تو اس کے اندر معقول رقم موجود تھی، اتنی معقول کہ مجھے کسی اور سے قرض مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئی، مشکل رفع ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟

  وہ صاحب کہنے لگے شادی کی سلامی والی بات سمجھ بھی آ گئی اور اس کا قائل بھی ہو گیا۔ بعد میں ایک دن خیال آیا کہ عید کے اصل اخراجات تو عید سے پہلے ہونے ہیں۔ عید والے دن اگر کسی کو ٹھیک ٹھاک عید بھی مل جائے، تب بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ بات سمجھ آگئی تو پھر جسے عیدی دینی ہو، اسے عید سے 5-7 روز پہلے دے دیتا ہوں، تاخیر ہو جائے تو چاند رات سے 1-2 دن پہلے لازمی دے آتا ہوں کہ ممکن ہے کسی کی عید تیاری میں کوئی کسر باقی ہو، نیا جوتا نہ لے سکا ہو، کچھ اور چیزیں ناکافی ہوں تو ممکن ہے میری عیدی وہ مسئلہ حل کر دے۔

  بات خوبصورت تھی، روح تک سرشار ہوگئی، اس وقت عہد کیا کہ قدرت نے مہلت دی تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ بعد میں پھر چیزیں بھول بھال جاتی ہیں، ایک دوسر ے کو مگر یاد دلاتے رہنا چاہیے ، کیا خبر کوئی چھوٹی سی بات کس کے حق میں بڑی بات ثابت ہو۔ یہ تحریر بھی اسی تذکیر کی سعی کا حصہ سمجھ لیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواج پاکستان کو خراج تحسین

آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی افغانستان میں کامیاب فضائی کارروائیاں، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ

افغانستان میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا، پاکستان نے افغان طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا

پی ایس ایل 11: ٹکٹوں کی فروخت کب سے شروع ہوگی؟ تاریخ کا اعلان کردیا گیا

کراچی: ایف آئی اے کی بی آئی ایس پی کے دفتر پر کارروائی، اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

ویڈیو

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

بنگلہ دیش: ایک لاکھ افراد کے لیے افطاری تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی دیگ نصب

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے