چین نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کریں اور فوری جنگ بندی اختیار کریں تاکہ بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ پیغام افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کو فون پر دیتے ہوئے دیا، اور کہا کہ دونوں ممالک کو پرسکون رہنا چاہیے اور براہِ راست رابطے کے ذریعے تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ونگ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور جلد از جلد باہمی ملاقاتیں کریں تاکہ اپنے اختلافات کو حل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار
چین کے بیان کے مطابق ونگ نے کہا کہ ’طاقت کے استعمال سے صورت حال پیچیدہ اور تناؤ بڑھ جائے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے تعاون ضروری ہے نہ کہ تصادم۔ ونگ نے افغانستان اور پاکستان کو ’الگ نہ ہونے والے بھائی اور ہمسایہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیہ انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتا۔
چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ چین نے ہمیشہ افغانستان اور پاکستان کے تنازع میں غیر جانبدار اور متوازن موقف اختیار کیا ہے اور بیجنگ فعال طور پر تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی وزارت خارجہ کا خصوصی ایلچی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے مسلسل سفر کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روس اور چین نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی دعویٰ مبالغہ آرائی قرار دیدیا
فون کال کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ونگ نے چین کے اصولی موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر امن قائم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
چین کے سفیر برائے بھارت ژو فی ہونگ نے بھی اس پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔














