مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر ممکنہ ایندھن کی قلت سے بچنے کے لیے حکومت نے خلیج کے ممالک سے ایندھن کی فراہمی کے انتظامات مکمل کرلیے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا ایک ورچوئل اجلاس ہوا، جو توانائی کے شعبے پر کمیٹی کے روزانہ جائزے کا حصہ تھا۔
مزید پڑھیں: ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ
اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی موجودہ انوینٹری، جاری درآمدات اور سپلائی چین کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اراکین کو اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ موجودہ کارگو راستے میں ہیں اور اضافی شپمنٹس کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔
کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیاکہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں اور سپلائی چین بلا تعطل کام کررہی ہے، جس سے آنے والے ہفتوں میں ایندھن کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے گی۔
اجلاس میں عالمی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کا بھی جائزہ لیا گیا، جو خطے میں جغرافیائی و سیاسی حالات کے سبب پیدا ہوا۔
اجلاس میں خام تیل کی درآمدات، ریفائنریز کی کارکردگی اور بحری نقل و حمل کے عملی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
متعلقہ حکام نے کمیٹی کو کارگو کی نقل و حمل، ریفائنریز کے مناسب آپریشن اور پیٹرولیم سپلائی چین کی بلا تعطل فعالیت کو یقینی بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
اراکین نے ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ حکومتی اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی دستیابی برقرار رہے۔
اجلاس میں ڈیزل، پیٹرول، ایوی ایشن فیولز اور ایل پی جی کی سپلائی کے جائزے اور مستقبل کے منصوبے بھی پیش کیے گئے، جن کے مطابق آنے والے ہفتوں میں ملکی طلب کو مناسب طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔
سپلائی کے علاوہ کمیٹی نے ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری اور طلب کے انتظام کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا، تاکہ بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران درآمدات پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
اجلاس میں عوامی شعبے اور شہری استعمال میں مؤثر ایندھن کے استعمال کے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے پیٹرولیم سپلائی چین میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جس میں اسٹاک کی موجودہ صورتحال، ڈپو اور ریٹیل سپلائی کی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی ترقی شامل ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ بہتر ڈیٹا انٹیگریشن اور مانیٹرنگ سے فوری فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر خزانہ اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان کی سپلائی صورتحال مستحکم ہے، جس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی رابطہ ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہاکہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی توانائی مارکیٹس، ملکی اسٹاک پوزیشن اور سپلائی چین کے حالات کا جائزہ لے کر بروقت اور ہم آہنگ پالیسی اقدامات کرے گی۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مارکیٹ کے استحکام، قومی توانائی کی حفاظت اور سپلائی چین کی بلا تعطل فعالیت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
اجلاس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینیئر اہلکار بھی شریک ہوئے۔














