دفترِ خارجہ نے گجرات میں تعینات اپنے دو یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے گھر سے 40 لاکھ روپے چوری ہونے کے واقعے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ رقم اس وقت منظرِ عام پر آئی جب نامعلوم چور اسے ان کے کرائے کے مکان سے چرا کر لے گئے۔
پولیس کے مطابق امیر شوکت اور عرفان احمد نے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 12 مارچ کو جٹّوواکل کے علاقے میں واقع ان کے مشترکہ کرائے کے گھر سے نامعلوم افراد 40 لاکھ روپے نقد چوری کر کے فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیے: بسم اللہ پڑھ کر رشوت لینے والا پولیس اہلکار گرفتار، نوکری سے برطرف
میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری مراسلے میں دونوں ملازمین سے اس رقم کے ذرائع کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ مراسلے کے مطابق چونکہ دونوں کم از کم اجرت پر ملازم ہیں، اس لیے ان سے پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی۔ دونوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 مارچ تک 3 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں۔
ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ امیر شوکت کو اسسٹنٹ پروٹوکول افسر کے اختیارات دیے گئے تھے جس کے تحت وہ شہریوں کے بیرونِ ملک استعمال کے لیے دستاویزات کی تصدیق اور دستخط کر سکتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گجرات میں دفترِ خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول ہفتے میں صرف دو دن دفتر آتے تھے اور بیشتر دفتری امور امیر شوکت ہی انجام دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: رشوت کیوں دوں؟ کوئٹہ میں ڈرائیور نے احتجاجاً اپنا رکشہ نذر آتش کردیا، ٹریفک اہلکار معطل
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دفتر کے بعض اہلکاروں اور ایجنٹ مافیا کے درمیان مبینہ بدعنوانی کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ حالیہ مہینوں میں اسپین کی جانب سے یکم اپریل سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے اعلان کے بعد تصدیق شدہ دستاویزات (اپوسٹیل) کے حصول کے لیے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض شہریوں کا الزام ہے کہ ایجنٹوں کے ذریعے فی اپوسٹیل تقریباً 21 ہزار اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے لیے 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت لی جا رہی ہے، جبکہ دفتر میں روزانہ 400 سے 500 اپوسٹیل درخواستیں نمٹائی جا رہی ہیں۔














