نیب نے چوہدری شوگر مل کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے 4 فروری 2026 کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
نیب کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
اس کیس کی شروعات چوہدری شوگر مل کے بینک اکاؤنٹس میں مشکوک ادائیگیوں کے بعد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوائری سے ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس : سپریم کورٹ نے مریم نواز کو ریلیف دے دیا
انکوائری کے نتیجے میں 8 اگست 2019 کو مریم نواز کو 48 روز کے لیے گرفتار کر کے جوڈیشل کسٹڈی میں دیا گیا۔
بعد ازاں مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے سامنے ضمانت کے لیے درخواست دائر کی۔
3 اپریل 2024 کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سیکشن 31 بی ون کے تحت کارروائی واپس لے لی۔
مزید پڑھیں: گزشتہ 5 سال میں کس سیاستدان نے قید میں عید منائی اور کون اب بھی جیل میں ہے؟
کارروائی ختم ہونے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی جس میں 7 کروڑ روپے کی واپسی کا تقاضا کیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت لاہور کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ میں اس درخواست پر فیصلہ کرے۔
نیب کا مؤقف ہے کہ انکوائری اسٹیج پر کیس واپس لینے کی صورت میں احتساب عدالت کے پاس کوئی عدالتی اختیار نہیں اور جب قانون میں عدالتی منظوری کا تقاضا نہ ہو تو اسے عدالتی فیصلے کے ذریعے شامل نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کیخلاف حمزہ شہباز کی نظر ثانی کی درخواست منظور
علاوہ ازیں، لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کیے بغیر ازخود فیصلہ جاری کیا، جو نیب کے مطابق اس کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔
اپیل ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل کے ذریعے دائر کی گئی ہے اور اب وفاقی آئینی عدالت اس پر فیصلہ کرے گی کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کیا جائے یا برقرار رہے۔













