چین نے پیر کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی پیشکش کا اعادہ کیا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اس وقت سب سے فوری ضرورت یہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور دونوں ممالک کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چین افغانستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور تعلقات میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی پاکستان اور افغانستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے، مسائل بات چیت سے حل کرنے کی تلقین
ترجمان کے مطابق بیجنگ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی بھی کر رہا ہے۔
چند روز قبل چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تنازعات کو طاقت کے بجائے مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟
افغان طالبان کے 2021 میں کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں دہشتگردی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد بارہا طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔
خصوصاً کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کرے، تاہم حکام کے مطابق ان مطالبات پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔














