آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والی سارہ لائیڈ کو سنہ 1998 کے بعد سے 2 مرتبہ گردے کی ضرورت پڑی اور دونوں مرتبہ ان کی مدد کو جو لوگ پیش پیش تھے ان میں سے ایک ان کا شوہر اور دوسرا بیٹا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
سارہ کو سنہ 2018 میں گردے کے ٹرانسپلانٹ کی شدید ضرورت پیش آئی کیونکہ ان کی صحت اچانک بگڑ گئی تھی۔ اس مشکل وقت میں ان کے بیٹے اولی نے قدم بڑھایا اور اپنے والد کی طرح 20 سال بعد اپنی ماں کو گردہ عطیہ کیا۔
اولی کہتے ہیں کہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ ماں کو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے تو میرے ذہن میں یہ سوال ہی نہیں آیا کہ میں اپنا نام پیش نہ کروں۔
مزید پڑھیے: بیوٹی پارلر جانے والی خواتین ہوشیار، بال بنوانے آئی خاتون کے گردے فیل ہوگئے
انہوں نے کہا کہ میرے والد نے سنہ 1998 میں یہ کیا تھا اور سب ٹھیک رہا تو مجھے یقین تھا کہ اگر میں یہ کروں گا تو سب کچھ بالکل ٹھیک رہے گا۔

سارہ نے اپنی نوعمری کے دوران ہیمراسمتھ اسپتال میں کافی وقت گزارا کیونکہ انہیں صرف 15 سال کی عمر میں لپوس کی تشخیص ہوئی تھی جو ایک دائمی خود مدافعتی بیماری ہے۔ ان کی صحت بتدریج بہتر ہوئی لیکن حمل کے دوران ایک شدید مسئلے کی وجہ سے انہیں پہلی بار گردے کا ٹرانسپلانٹ کروانا پڑا جب وہ 37 سال کی تھیں۔
سنہ2018 میں ان کے پہلے ٹرانسپلانٹ شدہ گردے میں خرابی آنے کے بعد دوبارہ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آئی جس کی وجہ سے انہیں فائبرومیالجی بھی لاحق ہو گئی۔
مزید پڑھیں: ذیابطیس گردوں کے لیے خاموش خطرہ، بروقت احتیاط نہ کی تو پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں
اولی نے کہا کہ اس عمل کے دوران وہ اپنی ماں سے زیادہ جذباتی تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے بہت طاقتور تجربہ تھا اور شاید ماں کے لیے یہ صرف فطری بات تھی۔
اب 8 سال بعد سارہ کی صحت بہتر ہے حالانکہ کچھ صحت کے مسائل برقرار ہیں۔ 61 سالہ سارہ کہتی ہیں کہ میرے ٹرانسپلانٹس شاندار رہے اور اسپتال بھی بہترین تھے۔
یہ بھی پڑھیے: جسم کو قدرتی طور پر ڈیٹاکس کرنے میں کیسے مدد دی جائے؟
انہوں نے کہا کہ آخرکار میں یہاں ہوں، یہ ممکن تھا کہ میں نہ ہوتی تو پھر میں ہر روز اس کی خوشی کیوں نہ مناؤں۔













