کینیا کے شہریوں کی یوکرین میں فوجی بھرتی بند کرنے پر روس کا اتفاق

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیا کے وزیرِ خارجہ وائی کلف موسالیا کے مطابق روس نے کینیا کے شہریوں کو اپنی فوج کے لیے یوکرین میں لڑنے کے لیے بھرتی کرنا بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کینیا کے وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کر لیا ہے کہ کینیا کے شہریوں کو روسی وزارتِ دفاع کے ذریعے بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 3 سال بعد بمشکل ہونے والے روس یوکرین مذاکرات 2 گھنٹوں میں بے نتیجہ ختم

وزیر خارجہ نے یہ بیان ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ مذاکرات کے بعد دیا ہے۔ 

روسی وزیر خارجہ نے روس میں موجود کینیا کے شہریوں کی فلاح و بہبود، اور خاص طور پر خصوصی آپریشن میں شامل افراد کے بارے میں اپنے کینیائی ہم منصب سے بات چیت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ کینیا کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ کے انکشاف کے بعد کیا گیا ہے، جس کے مطابق کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک کے ایک ہزار سے زائد افراد کو ’بے لگام‘ ایجنسیوں کے ذریعے روس اور یوکرین جنگ کے محاذوں پر بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟

فروری میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے لیے بھرتی کیے گئے کینیائی شہریوں میں سے 10 ہلاک ہو چکے ہیں۔

کینیا کے وزیر خارجہ وائی کلف موسالیا کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کینیا کے شہریوں کو اب وزارتِ دفاع کے ذریعے خصوصی آپریشنز کے لیے بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک لیبر معاہدہ بھی متوقع ہے، جس کا مقصد روس میں کام کرنے والے کینیائی شہریوں، خاص طور پر ڈرون بنانے کی صنعت سے وابستہ افراد، کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل

وزیر خارجہ کے مطابق کینیا نے 600 سے زائد ایسی ایجنسیوں کو بند کر دیا ہے جو روس اور دیگر ممالک میں نوکریوں کے جھوٹے وعدے کر کے شہریوں کو دھوکہ دے رہی تھیں۔

دوسری جانب روس نے کینیا میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو کوئی واضح جواب نہیں دیا اور نہ ہی انسانی اسمگلنگ سے متعلق الزامات پر تبصرہ کیا۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی لاروف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کینیائی شہریوں سمیت تمام غیر ملکی جنگجو رضاکارانہ طور پر جنگ میں شامل ہوئے۔

مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ: روسی فوجی تیزی سے ایڈز کا شکار ہونے لگے، ہولناک اسباب کا انکشاف

’۔۔۔ان کے ساتھ کوئی زبردستی یا دھوکہ نہیں کیا گیا، اور یہ عمل روسی قوانین کے مطابق ہے۔‘

’جب معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو فرد آزاد ہوتا ہے اور اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے، تاہم جنگ میں شامل ہونے والے غیرملکیوں کو اپنی واپسی کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔‘

ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ نے بھی گزشتہ نومبر میں الزام عائد کیا تھا کہ روس نے افریقہ کے 36 ممالک سے کم از کم 1400 افراد کو یوکرین بھیجا، جن میں سے کئی جنگی قیدی بن چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ