رمضان، وہ مہینہ جو صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں، بلکہ روح کی بیداری، دل کی نرمی اور ربّ سے قربت کا ایک نادر موقع ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے خیالات، اس کے اعمال، اس کی دعائیں، سب ایک خاص کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں، جیسے ہر سانس میں ربّ کی رضا شامل ہو۔
ہم جو محسوس کرتے ہیں، جو مانگتے ہیں، جو لکھتے ہیں، وہ سب دراصل اپنے اسی ربّ سے مکالمہ ہوتا ہے، جو ہماری خاموشیوں کو بھی سن لیتا ہے، اور جو ہمیں ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔
سال 2026 کا آغاز شاید امیدوں کے مطابق نہ تھا، مگر پھر رمضان آیا، اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے دروازے کھولے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں روزے رکھنے کی توفیق دی، صحت دی، زندگی کی روانی برقرار رکھی، والدین کی خدمت کا موقع دیا، اور سحری و افطار کے دسترخوان کو خالی نہ ہونے دیا۔
یہ سب نعمتیں معمولی نہیں تھیں، یہ خاموش رحمتیں تھیں، جو ہر دن ہمیں ڈھانپے رہیں۔ لیکن اس رمضان کی ایک اور حقیقت بھی تھی، ایک انجانی اداسی، ایک مسلسل بے چینی۔
دنیا جیسے اضطراب کا شکار رہی۔ مسلمان، جو ایک جسم کی مانند ہونے چاہییں تھے، باہم الجھتے دکھائی دیے۔ جنگوں کی آہٹیں قریب آئیں، خوف نے گھروں میں بسیرا کیا، اور ہر دل اپنے پیاروں کے لیے بے قرار رہا۔ نیندیں کم ہو گئیں، سکون جیسے کہیں کھو سا گیا۔
یہ رمضان بظاہر عبادتوں سے بھرا ہوا تھا، مگر اندر سے جیسے آزمائشوں کا بوجھ لیے ہوئے تھا۔
شاید یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالیٰ ہمارے صبر، ہمارے یقین اور ہمارے توکل کو پرکھ رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ ہم مشکل حالات میں کس حد تک اپنے فرائض نبھاتے ہیں، اپنی دعاؤں پر کتنا یقین رکھتے ہیں، اور اس کی رضا پر کس حد تک راضی رہتے ہیں۔
زندگی نے میرے ساتھ بھی اس رمضان میں کچھ کڑے امتحان لیے۔ کچھ خوشیاں دہلیز تک آ کر لوٹ گئیں۔ وہ لمحات، جن کا برسوں سے انتظار تھا، ہاتھ آ کر بھی جیسے پھسل گئے۔ دل کو چوٹ لگی، آنکھیں نم ہوئیں، سب کچھ بکھرتا دیکھائی دیا، زندگی بس ایک آزمائش سی لگی، ایک ایسی ذہنی اذیت اور دباؤ کا شکار ہوئی کہ بس ہر طرف ناکامی اور اندھیرا چھا گیا ہو، مگر پھر دل نے یہی سمجھایا کہ جس ربّ نے یہاں تک پہنچایا ہے، وہی بہتر انجام بھی عطا کرے گا۔ یہی توکل، یہی یقین، انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
اس رمضان میں ہم نے اپنے اردگرد دکھوں کی ایک طویل فہرست بھی دیکھی۔
کسی کا جوان بیٹا بچھڑ گیا، کسی کی زندگی اچانک ویران ہو گئی۔ ایک دوست کا دنیا سے یوں چلے جانا کہ یقین کرنا مشکل ہو جائے، ایک اور کا جوانی میں بیوہ ہو جانا، کسی کے سر سے ماں کا سایہ اٹھ جانا، والدین کی بیماریاں، جنگوں کے باعث بچھڑتے خاندان، بے گناہ جانوں کا ضیاع، اجڑتے گھر، یہ سب مناظر دل کو بے حد بوجھل کر گئے۔
ان سب کے درمیان عبادت کرنا، مسکرانا، صبر کرنا، یہی اصل امتحان تھا۔ اور اب جب رمضان رخصت ہونے کو ہے، دل کی اداسی اور گہری ہو جاتی ہے۔
وہ سحری کی خاموش ساعتیں، افطار کی رونقیں، مساجد کی چہل پہل، وہ لمحے جب ایک دعا میں ہزاروں عطائیں پوشیدہ ہوتی تھیں، سب جیسے آہستہ آہستہ ہم سے دور ہو رہے ہیں۔
تہجد کے لیے جاگنے کی وہ لگن، عبادت کا وہ ذوق، یہ خوف بھی ساتھ ہے کہ کہیں یہ سب رمضان کے ساتھ ہی رخصت نہ ہو جائے۔ رمضان جا رہا ہے، اور اس کے ساتھ ایک خاص روحانی کیفیت بھی مدھم ہو رہی ہے۔ لیکن اصل سوال یہی ہے، کیا رمضان واقعی جا رہا ہے، یا ہم اسے اپنے اندر زندہ رکھ سکیں گے؟
دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھے۔ ہمارے روزے، نمازیں، دعائیں اور نیکیاں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ ہر دل کی صدا کو سنے، ہر آنکھ کے آنسو کو ضائع نہ جانے دے، اور ہر ادھوری خواہش کو اپنے فضل سے مکمل فرمائے۔
آنے والا وقت ہمارے لیے آسانی، سکون اور رحمت لے کر آئے۔ اور آنے والا رمضان ایک بہتر دنیا، ایک مضبوط امت، اور ایک مطمئن دل کے ساتھ نصیب ہو۔
اللہ تعالیٰ پوری امتِ مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، حق اور سچ کو سربلند کرے، اور ہمیں اپنی رضا کے راستے پر قائم رکھے۔
آمین ثم آمین۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













