اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں بہتری کے باوجود زرمبادلہ کی دستیابی کے مسائل کے باعث ملک کی آئل سپلائی چین دباؤ کا شکار ہورہی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم خصوصی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں آئل انڈسٹری نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، انشورنس اخراجات، درآمدی پریمیم اور فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے کے باعث درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیل سے لدے 3 جہازوں کی آج پاکستان آمد، کیا ان سے تیل کی ضرورت پورا ہوگی اور قیمتیں کم ہوں گی؟
اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر اور 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر بالترتیب 132 ڈالر اور 190 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ درآمدی پریمیم 5-6 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 20 ڈالر سے زیادہ ہوگیا ہے۔
اس صورتحال کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی زرمبادلہ ضروریات دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں، لیکن بینکوں کی کریڈٹ حدود میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
آئل انڈسٹری، خصوصاً پاکستان اسٹیٹ آئل نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ تیل کی درآمدات جاری رکھنے کے لیے کریڈٹ حدود میں اضافہ یا متبادل مالی انتظامات کیے جائیں کیونکہ کمرشل بینک مکمل فارن ایکسچینج کوریج فراہم نہیں کر پارہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جعلی انجن آئل کا بڑا کارخانہ پکڑا گیا
اجلاس میں بتایا گیا کہ چیلنجز کے باوجود ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں۔ پیٹرول کے ذخائر 29 دن جبکہ ڈیزل کے ذخائر 26 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ خام تیل کے ذخائر 14 دن تک پہنچ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ سعودی آرامکو کی جانب سے اپریل کے وسط تک مزید 2 کارگوز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی پیٹرولیم مارکیٹ بدستور دباؤ میں ہے اور خطے کی صورتحال کے باعث سپلائی سے متعلق غیر یقینی برقرار ہے، جس سے درآمدی اخراجات اور لیٹر آف کریڈٹ کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ معاملہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ عارضی مالی سہولتیں، اضافی کریڈٹ اور مشترکہ فنانسنگ جیسے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں تیل کی فراہمی مستحکم ہے اور عید کی تعطیلات اور فصل کٹائی کے موسم کے دوران بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ نہیں۔ حکومت نے صوبائی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزی روکنے اور سپلائی کی مسلسل نگرانی کی ہدایت بھی جاری کی۔
حکومت کے مطابق مارچ کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور موجودہ درآمدی منصوبہ بندی کے تحت سپلائی اپریل کے وسط تک یقینی بنائی جا چکی ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد حکومت نے 7 مارچ سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں Rs55 اضافہ کیا تھا، جبکہ حالیہ جائزے میں مٹی کے تیل کی قیمت میں Rs40 فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔














