گھر کے ایک سیلون نما کمرے میں ایک نوجوان لڑکا ایک لڑکی کے ہاتھوں میں مہندی لگا رہا ہے جبکہ کئی خواتین انتظار میں بیٹھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہندی کے رنگوں سے مستقبل سنوارنے والی باہمت لڑکی کی کہانی
لڑکیوں اور خواتین کو مہندی لگانے والے محمد حنان علی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پشاور کے واحد مرد مہندی آرٹسٹ ہیں۔
عید کے لیے شہر کے مختلف علاقوں سے خواتین اور چھوٹی لڑکیاں مہندی لگوانے آتی ہیں۔ حنان بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ 10 سے 12 سال سے مہندی لگانے کا کام کر رہے ہیں جبکہ اس کا شوق انہیں بچپن سے تھا۔
حنان نے اپنے گھر کے ایک کمرے کو مِنی سیلون میں تبدیل کیا ہے جہاں وہ مہندی لگانے کا کام کرتے ہیں جبکہ وہ گھروں میں جا کر بھی مہندی لگاتے ہیں۔
’خواتین بلا جھجھک مجھ سے مہندی لگواتی ہیں‘
وہ بتاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ان کا کام بڑھ گیا ہے اور اب خواتین اور لڑکیاں بلا جھجک خوشی سے ان سے مہندی لگواتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ایمن اور منال کے بھائی کی مہندی، دونوں بہنوں کے خوبصورت لباس کے چرچے
انہوں نے بتایا کہ انہیں بچپن سے مہندی لگانے کا شوق تھا اور انہوں نے کاپی پر مختلف ڈیزائن بنا کر سیکھنا شروع کیا۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر مہندی لگانے کی مشق کرتے رہے اور یہ فن سیکھتے چلے گئے۔
’مہندی لگانے کا شوق کم عمری سے ہی تھا‘
وہ بتاتے ہیں کہ بہت کم عمری میں انہوں نے مہندی لگانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ ان کے کسٹمرز آنے شروع ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’مہندی لگانا شروع کرنے کے بعد میں نے انسٹاگرام پر ایک پیج بنایا اور اس پر ویڈیوز اپلوڈ کرنا شروع کیں جس سے میری مقبولیت میں اضافہ ہوگیا‘۔
مزید پڑھیں: داماد کی موت پر مہندی اور میک اپ، نشو کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب
حنان علی عید اور دیگر تہواروں پر مہندی لگاتے ہیں اور ساتھ ہی شادی کے مواقع پر بھی ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی کے دلکش ڈیزائن بناتے ہیں جس کے لیے ایڈوانس میں بکنگ کروانی پڑتی ہے۔
’لوگ چاہیں تو کم عمری میں بھی پیسہ کما سکتے ہیں‘
حنان علی ایک طالب علم بھی ہیں اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ مہندی لگا کر اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔
وہ یونیورسٹی سے آرٹ اینڈ ڈیزائننگ میں گریجویشن کر رہے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ نوجوان محنت کریں تو کم عمری میں بھی کمائی کر سکتے ہیں اور خاندان پر بوجھ بنے بغیر اپنے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس عید پر ان کے پاس کام زیادہ ہے اور خواتین اور لڑکیاں ایڈوانس میں ہی بکنگ کروا چکی ہیں۔
’ابتدا میں حنان سے مہندی لگوانے پر جھجھک محسوس ہوئی‘
حنان علی سے مہندی لگوانے والی لڑکیاں بھی خوش ہوتی ہیں۔ پشاور کی لبنیٰ عید پر خصوصی طور پر حنان سے مہندی لگواتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب پہلی بار مرد مہندی آرٹسٹ کے بارے میں سنا تو انہیں عجیب لگا کیوں کہ خواتین عموماً خاتون آرٹسٹس سے ہی مہندی لگواتی ۔
یہ بھی پڑھیے: انجیکشن مہندی، روایت اور جدت کا حسین امتزاج
انہوں نے بتایا کہ پہلی بار مرد آرٹسٹ کا سن کر جھجھک محسوس ہوئی تھی تاہم جب پہلی بار مہندی لگوائی تو وہ بہت خوش ہوئیں۔
لبنیٰ نے کہا کہ ’حنان کا کام بہت بہترین ہے، نفاست ہے اور ڈیزائن بھی خوبصورت ہیں لہٰذا اب میں حنان سے ہی مہندی لگواتی ہوں‘۔
’حنان کا پتا سوشل میڈیا کے ذریعے چلا‘
عائشہ فیصل بھی گزشتہ 2 سال سے حنان سے مہندی لگوا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا حنان سے رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا اور اب وہ ہر ایونٹ پر حنان سے مہندی لگواتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ملتان کا معذور جوڑا، شوہر کی نوکری ختم ہوئی تو بیوی نے ساتھ مل کر ریسٹورنٹ کھول لیا
عائشہ فیصل نے بتایا کہ عید کے موقعے پر ان کے ہاں ہجوم زیادہ ہوتا ہے اس لیے وہ ایڈوانس میں ٹائم لے لیتی ہیں۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔













