سائبر سیکیورٹی کے محققین نے بدھ کو انتباہ جاری کیا ہے کہ ایک جدید اسپائی ویئر جسے ڈارکسورڈ کہا جاتا ہے، لاکھوں ایپل آئی فونز میں داخل ہو کر صارفین کی نجی معلومات اور ڈیجیٹل اثاثے چوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ ڈارکسورڈ اسپائی ویئر حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی متعدد ویب سائٹس پر نصب پایا گیا۔ اس ماہ کے آغاز میں محققین نے ایک اور طاقتور آئی فون اسپائی ویئر کورونا کا انکشاف کیا تھا اور ڈارکسورڈ انہی سرورز پر ہوسٹ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 17 پاکستان میں اب بغیر سود کے قسطوں پر بھی ممکن، مگر کیسے؟
Lookout، iVerify اور گوگل نے مشترکہ تجزیہ شائع کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دونوں ہیکنگ ٹولز ظاہر کرتے ہیں کہ جدید مالویئر مارکیٹ مالیاتی مفادات کے حامل مجرمان کے لیے کس حد تک فعال ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ مالویئر iOS کے ورژنز 18.4 سے 18.6.2 استعمال کرنے والے آئی فون صارفین کو نشانہ بنا رہا ہے، جو مارچ سے اگست 2025 کے درمیان جاری کیے گئے۔ اگرچہ ایپل نے ان بگز کے لیے فکس جاری کر دیے ہیں تاہم بہت سے صارفین نے ابھی تک اپنے آلات کو اپڈیٹ نہیں کیا اور تخمینہ ہے کہ 220 سے 270 ملین آئی فونز ابھی بھی متاثرہ ورژنز پر چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون کی فروخت نے تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کر لی
محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خطرات اس لیے دریافت کیے کیونکہ ہیکرز نے سیکیورٹی میں ایسی غیر معمولی غلطیاں کیں جو عام طور پر ریاستی سطح کے آئی فون ہیکنگ میں نہیں ہوتیں۔














