قطر میں امیگریشن قوانین سخت، اقامتی اجازت منسوخی پر 30 دن کی رعایت ختم

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر کی وزارت داخلہ نے ریزیڈنسی پرمٹ منسوخ ہونے کے بعد ملک میں قیام کی رعایتی مدت میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے اسے 30 دن سے کم کر کے 14 دن کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محفوظ سفری طریقہ کار سے متعلق منعقدہ ایک ویبینار کے دوران ایئرپورٹ پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے کیپٹن علی احمد علی الکواری نے بتایا کہ اب اقامتی اجازت منسوخ ہونے کی صورت میں غیر ملکیوں کو 14 دن کے اندر ملک چھوڑنا لازمی ہوگا بصورت دیگر انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پھونک سے ویزہ؟ شف شف والی سرکار کی نئی ویڈیو وائرل

انہوں نے کہا کہ سابقہ طور پر یہ رعایتی مدت 30 دن تھی تاہم اب اسے کم کر کے دو ہفتے کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مقررہ مدت سے زائد قیام کرنے والوں پر روزانہ 10 قطری ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اہلکار نے یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے ویزا کی مدت اور شرائط کو پاسپورٹ پر لگے ویزا اسٹیمپ سے ضرور چیک کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزٹ ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے پر روزانہ 200 قطری ریال جرمانہ عائد ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بغیر ویزہ  قطر کیسے جا سکتے ہیں؟

پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے کیپٹن علی احمد علی الکواری نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی کہ وہ سفر سے قبل متراس (Metrash) موبائل ایپ کے ذریعے اپنی سفری حیثیت ضرور چیک کریں جس میں ٹریفک جرمانے، اوور اسٹے چارجز اور دیگر واجبات کی معلومات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کے عمل کو تیز بنانے کے لیے 76 ای گیٹس فعال ہیں، جن کے استعمال سے مسافروں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اقامتی اجازت کو نئے پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا عمل بھی متراس ایپ کے ذریعے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاحوں کے لیے بڑی خوشخبری، خلیج کے 7 ممالک کی سیر ایک ہی ویزہ پر

نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پیدائش کے بعد بچے کی اقامتی دستاویزات کا اندراج لازمی ہے اور قطر میں پیدا ہونے والے بچے کو والد کی کفالت میں اقامتی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر اقامتی اجازت کے بغیر ملک سے باہر جانے والے بچے کو دوبارہ قطر میں داخلے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp