سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ معروف انرجی ڈرنک ’سٹنگ‘ کس غیر معیاری اور غیر محفوظ طریقے سے تیار کی جا رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خالی بوتلیں صابن والے پانی میں دھوئی جاتی ہیں اس کے بعد لال رنگ ڈال کر ہاتھ سے مکس کیا جاتا ہے اور بوتلوں میں بھرا جاتا ہے۔ آخر میں بوتلوں میں گیس بھر کر ڈھکن بند کیے جاتے ہیں۔
کہیں جانے انجانے میں سٹنگ کا بائیکاٹ کرکے ان غریبوں کے پیٹ پر لات نہ مار دیجیئے گا، اس لیے سٹنگ پیتے رہیں تاکہ غریب کا چولہا جلتا رہے اور پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ بھی بچا رہے!! pic.twitter.com/WpnH8Ns7hy
— Mohammad Hayat (@mofarooka) March 18, 2026
ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد صارفین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مشروب کی صفائی و حفظان صحت کے اصولوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر محفوظ تیاری سے بچوں اور نوجوانوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سرمد حمید نے طنزاً لکھا کہ بوتلیں اچھی طرح دھو کر صاف کیں اور گیس پوری بھری۔ اس دور میں اتنی ایمانداری سے بزنس کرنا کم کم ہی نظر آتا ہے۔
بوتلیں اچھی طرح دھو کر صاف کیں۔ گیس پوری بھری۔ اس دور میں اتنی ایمانداری سے بزنس کرنا کم کم ہی نظر آتا ہے !! https://t.co/WRzk5dURIT
— Sarmad Hameed (@SarmadHameed4) March 18, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہیہ مشروبات جعلی ہیں، اصل مشروبات بھی صحت کے لیے ٹھیک نہیں لیکن ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ویڈیو یقینی طور پر PepsiCo کی پیداوار نہیں ہے۔
These are fake ones, the real ones are also not good for health but we all know that this definitely is not a PepsiCo production in this video. https://t.co/zibrE34YW6
— szbxyz (@LePathaan) March 18, 2026
کئی صارفین نے کہا کہ یہ سٹنگ نہیں ہے، روحان علی نے کہا یہ لوکل سوڈا بوتل ہیں یہ دور دراز علاقوں میں گاؤں وغیرہ میں بیس روپے کی سیل کرتے ہیں۔
یہ لوکل سوڈا بوتل ہیں یہ دور دراز علاقوں میں گاؤں وغیرہ میں بیس روپے کی سیل کرتے ہیں
— Rohan Ali (@Azlaan121) March 18, 2026
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ دودھ سوڈا بنانے والی بوتل ہے بھائی سٹنگ نہیں ہے ڈھکن دیکھیں۔
یہ دودھ سوڈا بنانے والی بوتل ہے بھائی اسٹنگ نہیں ہے ڈھکن دیکھیں
— Moazzam PTI (@masoom_anxari) March 18, 2026
کئی صارفین نے شکر ادا کیا کہ انہوں نے آج تک یہ ڈرنک نہیں پی جبکہ دیگر نے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشروبات کی تیاری کے معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔














