پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ایل این جی کی عدم دستیابی اور بجلی گھروں میں خرابیوں کے باعث شارٹ فال 11 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کو اس وقت 11 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق یہ صورتحال ایل این جی (ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کی عدم دستیابی، شیڈول اور غیر اعلانیہ بندشوں اور اہم پاور پلانٹس میں طویل خرابیوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل طور پر بند ہے، جبکہ 747 میگاواٹ کا گدو کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ اپنی استعداد کے تقریباً نصف پر چل رہا ہے، جس سے مجموعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ قریب، آئندہ 5 روز میں قطر سے ایل این جی پہنچے گی، وزیر توانائی اویس لغاری

ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 46 ہزار میگاواٹ ہے، تاہم عملی طور پر قابل استعمال صلاحیت کم ہو کر تقریباً 29 ہزار 66 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ ان میں پن بجلی سے 6,602 میگاواٹ، آر ایل این جی سے 6,602 میگاواٹ، فرنس آئل سے 3,472 میگاواٹ (جن میں سے کچھ بند ہیں)، کوئلے سے 6,778 میگاواٹ، گیس سے 1,907 میگاواٹ، جوہری توانائی سے 2,990 میگاواٹ، شمسی توانائی سے 716 میگاواٹ، ہوا سے 156 میگاواٹ اور بگاس سے 132 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

حالیہ اندازوں کے مطابق مؤثر آپریشنل صلاحیت تقریباً 28 ہزار میگاواٹ میں سے لگ بھگ 11 ہزار میگاواٹ دستیاب نہیں، جس کے باعث عملی دستیاب بجلی تقریباً 17 ہزار میگاواٹ تک محدود ہو گئی ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق صوبوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیموں سے پانی چھوڑ کر پیک آورز میں 4,950 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔ ملک میں پن بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 11,500 میگاواٹ ہے، تاہم کم پانی کے اخراج کے باعث پیداوار استعداد سے تقریباً 6 ہزار میگاواٹ کم ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے جنوبی علاقے سے 400 میگاواٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی گئی، تاہم ترسیلی نظام کی محدودیت کے باعث اضافی بجلی کو مکمل طور پر شمالی علاقوں تک منتقل نہیں کیا جا رہا، جس کے نتیجے میں وسطی پنجاب میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: گرمی بڑھتے ہی ملک بھر میں بجلی کا بحران سنگین، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ

ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر چوٹی کے اوقات میں دو سے اڑھائی گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی۔ ترجمان کے مطابق زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر ’اقتصادی لوڈ مینجمنٹ‘ حکومتی پالیسی کے تحت جاری رہے گی اور اس کا تعلق عارضی لوڈشیڈنگ سے نہیں ہے، جبکہ ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے پر صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 5,500 میگاواٹ صلاحیت کے حامل بجلی گھر بند ہیں، اس لیے عوام کو رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔

توانائی کے شعبے کے مستقبل کے حوالے سے نیشنل گرڈ کمپنی کے اندازوں کے مطابق 2035 تک بلند طلب کے منظرنامے میں بجلی کی مجموعی ضرورت 218,984 گیگا واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب 43,069 میگاواٹ ہو گی۔ درمیانی سطح کے منظرنامے میں یہ ضرورت 198,963 گیگا واٹ آور اور چوٹی کی طلب 39,132 میگاواٹ تک رہنے کا امکان ہے۔

کم طلب کے منظرنامے میں مجموعی توانائی کی ضرورت 180,605 گیگا واٹ آور (یا نیٹ میٹرنگ کے بغیر 167,293 گیگا واٹ آور) جبکہ چوٹی کی طلب 35,521 میگاواٹ متوقع ہے۔ تاہم توانائی کے بہتر استعمال پر مبنی کم طلب کے منظرنامے میں یہی طلب کم ہو کر 28,622 میگاواٹ تک آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں نہ صرف ایندھن کی دستیابی بلکہ ترسیلی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی ناگزیر ہے، بصورت دیگر طلب اور رسد کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp