عالمی سطح پر کشیدگی اور پیٹرولیم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات اب بلوچستان تک بھی پہنچنے لگے ہیں، جہاں غیر قانونی طور پر اسمگل ہونے والے ایرانی پیٹرول کی قیمت میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مقامی تاجروں کے مطابق، اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عیدالفطر کے موقع پر ایرانی پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیے جانے کے بعد، بلوچستان میں فروخت ہونے والے ایرانی پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 300 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ سرحدی علاقوں اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں اس کی سپلائی میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران جنگ کے اثرات: بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 300 روپے لیٹر تک جا پہنچی
ایرانی پیٹرول کے کاروبار سے وابستہ مقامی تاجر احمد خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بلوچستان کے کئی علاقوں میں ایرانی پیٹرول کی شدید قلت ہے۔ ان کے مطابق، ایران میں موجودہ جنگی حالات اور سرحدی نگرانی سخت ہونے کے باعث غیر قانونی راستوں سے پیٹرول کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عیدالفطر تک ایرانی پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بعض ذخیرہ اندوز یا منافع خور عناصر قیمتوں میں 20 روپے یا اس سے زیادہ اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔
احمد خان کے مطابق، ایرانی پیٹرول کی قیمت کا تعلق بنیادی طور پر دو عوامل سے ہوتا ہے: ایک پاکستانی پیٹرول کی قیمت اور دوسرا مارکیٹ میں ایرانی پیٹرول کی دستیابی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستانی پیٹرول کی قیمت نسبتاً مستحکم ہے، تاہم ایرانی پیٹرول کی کمی کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے عام آدمی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئٹہ کے رہائشی عبداللہ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ایرانی پیٹرول بھی اب زیادہ سستا نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیے کیا بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کم قمیت پر دستیاب ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ایرانی اور پاکستانی پیٹرول کی قیمتوں میں زیادہ فرق باقی نہیں رہے گا، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے افراد پر پڑے گا، جو اپنی موٹر سائیکلوں کے لیے نسبتاً سستا ایرانی پیٹرول استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سپلائی متاثر ہونے اور طلب میں اضافے کے باعث آئندہ دنوں میں ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ عیدالفطر کے قریب طلب بڑھنے سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔














