پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت پانی کے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
یہ معاملہ عالمی یوم آب کے موقعے پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آیا جس کا موضوع پانی اور صنفی مساوات تھا۔ اس دوران پاکستان کی سیکنڈ سیکریٹری علینہ مجید نے بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں وضاحت پیش کی۔
بھارت کا مؤقف
اجلاس میں بھارتی نمائندے نے کہا کہ نئی دہلی اس وقت تک سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھے گا جب تک پاکستان دہشتگردی کے خلاف ’قابل اعتبار اور ناقابل واپسی اقدامات‘ نہیں کرتا۔
Right of Reply by Second Secretary Aleena Majeed
In Response to Remarks of Indian Representative
At High-Level Event to Commemorate World Water Day on the Theme of Water and Gender Equality
(March 19, 2026)
********I am compelled to take the floor to respond to the baseless… pic.twitter.com/QJ9pZFhOWW
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 20, 2026
بھارت نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ بدلتے ماحولیاتی، تکنیکی اور آبادیاتی حالات کے پیش نظر اس پرانے معاہدے میں ترمیم ضروری ہے۔
پاکستان کا جواب
علینہ مجید نے کہا کہ وہ بھارت کے بے بنیاد بیانات کے باعث وضاحت دینے پر مجبور ہوئیں۔
مزید پڑھیے: بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ
انہوں نے زور دیا کہ سنہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ جنگوں، بحرانوں اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سیاسی کشیدگی کے باوجود قائم رہا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا تنازع بھی شامل ہے۔
یکطرفہ اقدام پر تشویش
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا اس کی قانونی اور تاریخی حیثیت سے انحراف ہے کیونکہ معاہدے میں ایسی کسی یکطرفہ کارروائی کی اجازت موجود نہیں۔
پانی کو ہتھیار بنانا
علینہ مجید نے خبردار کیا کہ بھارت کے اقدامات دراصل سیاسی مقاصد کے لیے پانی کو ہتھیار بنانے کے مترادف ہیں جس سے لاکھوں افراد کے روزگار اور زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کا حوالہ
انہوں نے عدالتِ ثالثی میں جاری قانونی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2025 کے ضمنی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر ہے اور اس کے تنازعات کے حل کا نظام بھی برقرار اور لازم العمل ہے۔
دہشتگردی کے الزامات رد
پاکستانی نمائندہ نے بھارت کے دہشتگردی سے متعلق الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بھارت کے اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں جن میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی تشدد اور سرحد پار کارروائیاں شامل ہیں۔
At UN High-Level Event, Pakistan Warns against Weaponization of Water, Calls it Threat to Civilization, Livelihoods and Regional Stability
Our Press Release today pic.twitter.com/E1v1MR0ZiQ
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 19, 2026
پاکستان کا مؤقف برقرار
انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاہدوں پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔













