بنگلہ دیشی وزیر برائے مقامی حکومت اور دیہی ترقی مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ حکومت ملک میں ‘ہجوم کے تشدد’ کو کسی صورت براداشت نہیں کرے گی اور ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وہ ٹھاکرگاؤں صدر اپضلع کی رائے پور یونین میں نہا دریا کی کھدائی کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
وزیر برائے دیہی ترقی نے کہا کہ جاری عالمی کشیدگی کے باعث ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مطلوبہ بنگلہ دیش کے حصول کے لیے وزیر اعظم طارق رحمان کی عوام سے تعاون کی اپیل کی
‘ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال نے تیل کی فراہمی کو پہلے ہی متاثر کیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔’
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں صبر کا مظاہرہ کریں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں۔
وزیر نے ٹھاکرگاؤں میں حالیہ پیٹرول پمپ کی توڑ پھوڑ کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں فسطائیت کا سایہ ابھی باقی ہے، مکمل بحالی نہیں ہوئی، شفیق الرحمان
انہوں نے کہا کہ کسی بھی شکایت کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری پر ضلعی پولیس کو بھی سراہا۔
مرزا فخرالاسلام نے مزید ہدایت دی کہ نہر کی کھدائی کے منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، جو زراعت، ماہی گیری اور ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کام کو درست طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچے اور کسی قسم کی بے ضابطگی کے الزامات سامنے نہ آئیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے ایک بار پھر روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر عالمی تعاون کی اپیل کردی
حکومتی ترقیاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے کہا کہ انتخابی منشور کے کئی وعدوں پر پہلے ہی عملدرآمد جاری ہے، جن میں فیملی کارڈز، نہروں کی کھدائی کے پروگرام اور کسانوں کی معاونت کے لیے زرعی کارڈز متعارف کرانے کے منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ترقی بنگلہ دیش کی مجموعی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔













