مہنگا ہائی آکٹین پیٹرول، پاکستان میں کون سی گاڑیاں متاثر ہوں گی؟

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں اضافے کے بعد ہائی آکٹین فیول کی قیمت میں 200 روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا جس کی بعد فی لیٹر قیمت 600 روپے تک پہنچ گئی ہے، ماہرین کے مطابق ہائی آکٹین پر چلنے والی گاڑیوں میں عام (نارمل) پیٹرول کے استعمال سے کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم یہ انجن کی قسم پر منحصر ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑی سبسڈی دی، ڈاکٹر مصدق ملک

ماہرین کے مطابق ہائی آکٹین فیول میں آکٹین ریٹنگ زیادہ ہوتی ہے، جو انجن میں ناکنگ (Knocking) کو روکتی ہے۔ یہ خاص طور پر ٹربو چارجڈ اور ہائی کمپریشن انجنز کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عام پیٹرول عام گاڑیوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

پاکستان میں موجود متعدد گاڑیاں یا ان کے مخصوص ٹربو ماڈلز ہائی آکٹین فیول پر ہی چلائے جا سکتے ہیں وگرنہ گاڑیاں ناکنگ کرنا شروع کر دیتی ہیں اور انجن کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں ہنڈا سوک 1.5 ٹربو، ایم جی ایچ ایس ٹربو، چنگان اوشان ایکس 7 ٹربو، ہیول ایچ 6، پی جو 2008، ہنڈائی سوناٹا این لائن، جیٹور ڈیشنگ، جی ڈبلیو ایم ٹینک 500، جیکو جے 7، پروٹان ایکس 70 ٹربو، ہنڈائی ٹاصان کے ٹربو ویریئنٹس، اسی طرح لگژری گاڑیاں جیسے لینڈ کروزر، پراڈو، رینجرز روور، بی ایم ڈبلیو اور آؤڈی گاڑی کے نئے ماڈلز عام طور پر ہائی آکٹین پیٹرول پر ہی چلتی ہیں، کیونکہ ان کے ہائی کمپریشن اور ٹربو انجن بہتر کارکردگی کے لیے پریمیم فیول پر انحصار کرتے ہیں۔

ہائی آکٹین کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ان گاڑیوں کے فیول ٹینک فل کرانے پر 12 ہزار روپے سے 28 ہزار روپے تک کی اضافی رقم ادا کرنا ہو گی۔

آٹو انڈسٹری کے ماہر اور پاک وہیلز کے مالک سنیل منج کے مطابق پاکستان میں دستیاب 92 رون پیٹرول بھی دراصل 92 رون نہیں ہوتا ہے کہیں 99 رون اور کچھ مقامات پر صرف 88 رون پیٹرول 92 رون کے نام پر فروخت ہو رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائی کمپریشن انجنز کی کارکردگی اس پیٹرول سے متاثر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائی آکٹین فیول پاکستان میں موجود گاڑیوں کے ٹربو ویریئنٹس کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن میں چند ایسے لوگوں سے واقف ہوں کہ جو ان ٹربو گاڑیوں میں بھی نارمل پیٹرول کا استعمال کرتے ہیں اور ان کی گاڑیوں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی ہے۔ آٹو انڈسٹری کے مطابق بہت سی گاڑیاں ہائی آکٹین کے بغیر بھی چل سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت کا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار

کیا موٹرز پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ان کے تمام ماڈلز رون 91 یا اس سے زائد آکٹین والے عام پیٹرول پر مکمل کارکردگی دیتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق صارفین بلا جھجھک رون 92 جسے سپر فیول یا عام پیٹرول کہا جاتا ہے استعمال کر سکتے ہیں اور اس سے گاڑی کی کارکردگی یا پائیداری پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، ہائی آکٹین فیول کا استعمال پاکستان میں کیا کمپنی کی گاڑیوں کے لیے لازمی نہیں، تاہم صارفین کو معیاری اور مستند پیٹرول پمپس سے فیول حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ہائی آکٹین والی گاڑی میں عام پیٹرول استعمال کیا جائے تو تو انجن کی طاقت کم ہو سکتی ہے، فیول ایوریج متاثر ہو سکتی ہے اس کے علاوہ سب سے اہم طویل مدت میں انجن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ گاڑی میں ناکنگ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp