ایک نئی کتاب میں اس ملاقات کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کے دوران امریکی صدر ملکہ الزبتھ کے فن سفارتکاری کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی کرنسی کی تاریخ کا اہم باب بند: ملکہ الزبتھ کی تصویر والا آخری سکہ جاری
امریکی صحافی سوسن پیج نے اپنی کتاب ’دی کوئن اینڈ ہر پریزیڈنٹس: دی ہڈن ہینڈ دیٹ شیپڈ ہسٹری‘ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ اور ملکہ کے درمیان ایک نجی ملاقات ہوئی تھی۔ اس دوران ٹرمپ نے براہ راست ملکہ سے ایک حساس سوال پوچھا کہ آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کون ہیں؟
ملکہ الزبتھ اپنی شاہی سفارتکاری کے اصول پر کاربند رہیں کہ کسی بھی معزز شخصیت پر تنقید اور عوام میں سخت مؤقف اختیار نہ کرنا۔ لہٰذا ملکہ نے جواب دیا کہ وہ سب بہت اچھے تھے‘۔
لیکن امریکی صدر جواب حاصل کرنے پر بضد تھے۔ انہوں نے گزشتہ صدور جیسے رونالڈ ریگن اور رچرڈ نکسن کے نام بھی لیے لیکن ملکہ ہر بار پرسکون رہیں اور جواب ایک ہی طرح کا دیا۔ مراد یہ کہ تنقید نہیں کروگے تو کوئی شہ سرخی نہیں بنے گی۔
مزید پڑھیے: ملکہ برطانیہ کا مطالبہ جس نے بادشاہ چارلس کو سخت پریشان کرکے رکھ دیا
صدر ٹرمپ نے برطانوی رہنماؤں، خصوصاً ونسٹن چرچل کے بارے میں سوال کر کے ملکہ کو الجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس چال میں بھی نہ آئیں۔ انہوں نے سفارتکاری کے فن کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ سب بہت اچھے تھے… سب نے محنت کی‘۔
کتاب کے مطابق یہاں ٹرمپ کو احساس ہوا کہ وہ سفارتکاری میں ایک ماسٹر کلاس دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے حیرت سے کہا میں نے ملکہ کے منہ سے کسی کی برائی نہیں سنی، یہ کمال ہے‘۔
صدر ٹرمپ نے خود کو ملکہ کے مقابلے میں رکھا اور کہا کہ وہ مجھ سے بالکل مختلف تھیں اسی لیے وہ کبھی الجھن میں نہیں آئیں‘۔
مزید برآں صدر ٹرمپ نے ملکہ کی بے عیب حکمرانی کی تعریف کی کہ ’ہر کوئی ان کے ارد گرد غلطیاں کر رہا تھا لیکن انہوں نے کبھی غلطی نہیں کی‘۔
مزید پڑھیں: کوئین الزبتھ اول کے حکم پر سزائے موت پانے والی اسکاٹ لینڈ کی ملکہ کا آخری خط منظر عام پر
کتاب میں ملاقات کی تاریخ واضح نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس ملاقات نے صدر ٹرمپ پر گہرا اثر چھوڑا۔














