پشاور ہائیکورٹ میں ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے عمران خان کے نام سے منسوب کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔
پشاور ہائیکورٹ میں ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنا مقررہ گائیڈ لائنز کے خلاف ہے، کیونکہ عوامی اثاثوں کو کسی زندہ شخص کے نام سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے پشاور کا کرکٹ اسٹیڈیم، جن کے نام سے منسوب ہے وہ ارباب نیاز کون تھے؟
وکیل نے مزید کہا کہ اس حوالے سے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں جو زندہ افراد کے نام پر عوامی مقامات رکھنے کی ممانعت کرتے ہیں۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ گائیڈ لائنز کے مطابق واقعی کسی زندہ شخص کے نام پر کسی جگہ کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہے تو کوئی نیا اسٹیڈیم تعمیر کر کے اس کا نام رکھ سکتی ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے کچھ مہلت دی جائے۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ رپورٹ آنے کے بعد کیس کی مزید سماعت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے ارباب فیملی کا پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے پر عدالت جانے کا فیصلہ
ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم پشاور کا ایک تاریخی اور اہم کھیلوں کا میدان ہے، جس کے نام کی تبدیلی پر حالیہ دنوں میں قانونی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔














