امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان: ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے موخر

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے روک دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ توانائی پلانٹس کو نشانہ بنانے کی کارروائی اب پیر، 6 اپریل 2026 تک مؤخر کر دی گئی ہے۔

 مذاکرات ’بہت اچھے‘ جا رہے ہیں

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے برعکس، بات چیت واقعی بہت اچھی جا رہی ہے۔

بعد ازاں فاکس نیوز کے پروگرام ’دی فائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران نے ابتدائی طور پر سات دن کی مہلت مانگی تھی، تاہم انہیں 10 دن دیے گئے۔

 ایران کی جانب سے درخواست کی تردید

دوسری جانب امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنی توانائی تنصیبات پر حملوں میں وقفے کی کوئی درخواست نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر بھی ابھی تک کوئی حتمی مؤقف نہیں دیا۔

 متضاد بیانات اور بدلتی حکمت عملی

ٹرمپ ماضی میں بھی ایران سے متعلق اپنے بیانات اور حکمت عملی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایک لحاظ سے ہم پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار ایران کے خلاف کارروائی کی ڈیڈ لائن میں تبدیلی کر چکے ہیں۔

اتوار کو انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے توانائی نظام پر حملہ کیا جائے گا۔

پیر کو انہوں نے ’مثبت بات چیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید پانچ دن کی مہلت دی۔

جمعرات کا اعلان اسی سلسلے کی دوسری بڑی تاخیر ہے۔

یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ حالیہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ مسلسل ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

 عالمی معیشت پر اثرات

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر دباؤ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

تیل بردار جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث اس راستے پر آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہو رہی ہے۔

 صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی؟

ماہرین کے مطابق یہ 10 روزہ وقفہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا موقع بھی بن سکتا ہے اور ایک نئی سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران اور امریکا کے بیانات میں تضاد صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

 جنگی جرم کا خدشہ؟

ماہرین قانون کے مطابق شہری تنصیبات، جیسے بجلی کے نظام، کو نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کے تحت جنگی جرم تصور ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ٹرمپ کے منصوبے کو ’ممکنہ جنگی جرم کی دھمکی‘ قرار دیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں ’دوہری استعمال ہونے والی‘ (dual-use) تنصیبات، جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp