جنگ ایران چوتھے ہفتے میں داخل، امریکی عوام میں بے چینی بڑھ گئی، ٹرمپ کی حمایت میں مزید کمی

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی امریکا میں اس تنازع پر عوامی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ سرویز کے مطابق نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ یہ جنگ عالمی سطح پر مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

25 مارچ کو جاری ہونے والے دو بڑے قومی سرویز کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت صدر ٹرمپ کے جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار سے ناخوش ہے۔

پیو ریسرچ سنٹر کے سروے میں 61 فیصد افراد نے ٹرمپ کی پالیسی کو ناپسند کیا، جبکہ صرف 37 فیصد نے حمایت کی۔
اسی طرح 59 فیصد افراد نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط فیصلہ قرار دیا۔

 جنگ کی کامیابی پر شکوک

تقریباً دوگنی تعداد میں امریکیوں کا ماننا ہے کہ فوجی کارروائی ’اچھی نہیں جا رہی‘۔
45 فیصد نے کارکردگی کو منفی قرار دیا جبکہ صرف 25 فیصد نے اسے کامیاب یا بہت اچھی پیش رفت کہا۔

 دنیا کے لیے خطرہ؟

Quinnipiac University کے سروے کے مطابق

42 فیصد افراد کا خیال ہے کہ یہ جنگ دنیا کو مزید غیر محفوظ بنائے گی۔

35 فیصد اسے محفوظ بنانے کا سبب سمجھتے ہیں۔ جبکہ 20 فیصد کے نزدیک اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا

ماہر تجزیہ کار ٹم میلائے کے مطابق، اس معاملے پر امریکی سیاست میں گہری تقسیم موجود ہے۔

 سیاسی تقسیم گہری

امریکا میں اس جنگ پر سیاسی اختلافات نمایاں ہیں۔ ڈیموکریٹس کی بڑی اکثریت (74 فیصد) اسے دنیا کے لیے خطرناک سمجھتی ہے۔ جبکہ ریپبلکنز کی بڑی تعداد (79 فیصد) اسے مثبت قرار دیتی ہے۔

آزاد (independent) ووٹرز بھی زیادہ تر اس جنگ کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔

 ٹرمپ کی پالیسی پر اختلاف

ڈیموکریٹس اور ان کے حامیوں میں 90 فیصد افراد ٹرمپ کے فیصلوں سے ناخوش ہیں، جبکہ 88 فیصد کے مطابق ایران پر حملہ غلط تھا۔
دوسری طرف تقریباً 70 فیصد ریپبلکنز ٹرمپ کی حکمت عملی کی حمایت کر رہے ہیں۔

3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی یہ جنگ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عوامی ناراضی میں اضافہ ہوا تو اس کے براہِ راست اثرات کانگریس کے کنٹرول پر پڑ سکتے ہیں۔

 آبنائے ہرمز اور ٹرمپ کا بیان

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے پاکستانی جھنڈے والے آٹھ آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی، جسے انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔

تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اندر جنگ پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔

جارج ٹاؤن جرنل آف انٹرنیشنل افیئرز نے مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو کشیدگی کم کرنے اور بڑے بحران سے بچنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اسی طرح سٹمسن سنٹر نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی کارروائیوں نے جنگ کے خاتمے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے دفاعی مراکز پر مشترکہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو اسلحہ صنعت کو نشانہ بنانے کا حکم دیا۔

امریکا میں ایران جنگ اب صرف ایک عسکری معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑا سیاسی اور عوامی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عوامی حمایت میں کمی اور سیاسی تقسیم اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع امریکی سیاست اور عالمی صورتحال دونوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp