امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط جلد امریکی کرنسی پر دکھائی دیں گے، اس اقدام کا مقصد ملک کی 250 ویں یوم آزادی (4 جولائی) کی تقریب میں انہیں نمایاں کرنا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب کوئی موجودہ صدر امریکی کرنسی پر دستخط کروا رہا ہے۔ اب تک بینک نوٹوں پر صرف خزانچی اور خزانہ کے سیکریٹری کے دستخط موجود ہوتے تھے، جن کی تقسیم $1، $2، $5، $10، $20، $50، اور $100 کے نوٹوں میں ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:ملکہ الزبتھ کا عالیشان سفارتی اصول جس کے صدر ٹرمپ بھی معترف
امریکی خزانچی سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے ملک کو غیر معمولی اقتصادی ترقی اور مالی استحکام کی راہ پر ڈال دیا اور یہ تبدیلی ان کی تاریخی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم، جو 2028 میں صدارت کے لیے ڈیموکریٹک نامزدگی کے متوقع امیدوار سمجھے جاتے ہیں، نے اس اعلان پر طنز کیا اور کہا کہ اب امریکی جانیں گے کہ مہنگائی کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟
اس اقدام نے تنقید کو بھی جنم دیا، کیونکہ قانون کی ایک شق کے تحت زندہ صدور کی کرنسی پر تصویر بنانے پر پابندی ہے اور ناقدین نے اسے ڈکٹیٹر یا بادشاہوں کے رویے سے تشبیہ دی۔
مزید پڑھیں:’معرکۂ حق‘ کا سکہ چل گیا
یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایک وفاقی آرٹس کمیشن نے ٹرمپ کی تصویر والے 24 قیراط سونے کے یادگاری سکے کے حتمی ڈیزائن کی منظوری بھی دی، یہ سکہ بھی 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر جاری کیا جائے گا۔













