امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول پر عائد لیوی فوری طور پر ختم کی جائے۔
ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حکومتی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے خود بھاری پروٹوکول کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 4 لیٹر پیٹرول ’ذخیرہ‘ کرنے پر عدالت نے شہری کو 1500روپے جرمانہ، 21 دن قید کی سزا سنادی
ان کا کہنا تھا کہ ایک تعزیت اور شادی میں شرکت کے لیے آنے والے وفد کے ساتھ درجنوں گاڑیاں موجود تھیں، جبکہ صدر آصف علی زرداری بھی عید کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں گاڑیوں کے ساتھ گئے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول قیمتوں سے متعلق سمری مسترد کرنا محض عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ یہ سمری خود حکومت کی تیار کردہ تھی۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیاکہ 1300 سی سی سے زائد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگائی جائے اور حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کریں۔
انہوں نے تعلیمی ادارے فوری کھولنے، ایران کے ساتھ تجارت بحال کرنے اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ خطے میں کشیدگی کے باعث دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور ان کے بقول کچھ قوتیں عالمی جنگ کی فضا پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
سندھ حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں نے صوبے کی صورتحال کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ بدعنوانی کا شکار ہے اور اس پر غیر ضروری اخراجات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سادہ اقدامات بھی کیے جا سکتے تھے۔
انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے معاملات پر بھی اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ اس میں مالی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آرامکو کا بڑا ریلیف، ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر کمی
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے ایک مضبوط میگا سٹی گورننس سسٹم کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں پر بھاری فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود کراچی کچرے کے مسائل سے دوچار ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شہر کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔














