یونان کے جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب 22 تارکینِ وطن ہلاک ہوگئے، جو 6 دن تک سمندر میں رہنے کے بعد یورپ پہنچنے کی کوشش کررہے تھے۔
زندہ بچ جانے والوں نے یونانی کوسٹ گارڈ کو بتایا کہ مشکل سفر کے دوران مرنے والوں کی لاشیں جہاز پر موجود ایک اسمگلر کے حکم پر سمندر میں پھینک دی گئیں۔
مزید پڑھیں: مہلک سفر: غیرقانونی تارکین وطن کی سب کچھ داؤ پر لگا کر یورپ پہنچنے کی کوشش
ہفتے کے روز یونانی کوسٹ گارڈ کو دی گئی معلومات کے مطابق 26 افراد اس حادثے میں زندہ بچ گئے جنہیں یورپی بارڈر ایجنسی کے جہاز نے جزیرہ کریٹ کے قریب ریسکیو کیا۔
حکام کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں ایک خاتون اور ایک کم عمر بچہ بھی شامل ہے، جبکہ زخمی افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ بچ جانے والوں میں 21 بنگلہ دیشی، 4 جنوبی سوڈان کے شہری اور ایک چاڈ کا باشندہ شامل ہے۔
یہ کشتی 21 مارچ کو مشرقی لیبیا کے بندرگاہی شہر طبرق سے روانہ ہوئی تھی، جسے بہت سے تارکینِ وطن یورپی یونین میں پناہ حاصل کرنے کے لیے ایک گیٹ وے سمجھتے ہیں۔ یہ کشتی 6 دن تک سمندر میں رہی۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق سفر کے دوران مسافر راستہ بھٹک گئے اور خوراک و پانی کے بغیر 6 دن تک سمندر میں پھنسے رہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ مرنے والوں کی لاشیں جہاز پر موجود ایک اسمگلر کے حکم پر بحیرہ روم میں پھینک دی گئیں۔
یونانی حکام نے 19 اور 22 سال کے 2 جنوبی سوڈانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے جنہیں انسانی اسمگلر سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف غیر قانونی داخلہ اور غفلت کے باعث ہلاکت کے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
یہ کشتی کریٹ کے جنوبی شہر ایراپیٹرا سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں موجود تھی۔ کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سفر کے دوران کشتی کو نامساعد موسمی حالات کا سامنا رہا۔
ترجمان کے مطابق خراب موسم اور خوراک و پانی کی کمی کے باعث 22 افراد تھکن سے جان کی بازی ہار گئے۔
یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے مطابق 2026 کے پہلے 2 ماہ کے دوران یورپی یونین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔
یورپی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ یہ سانحات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہجرت کے راستوں پر موجود شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کوششیں تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہی عناصر ان سانحات کے ذمہ دار ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے فروری کے دوران بحیرہ روم میں 559 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 287 تھی۔
دسمبر میں بھی 17 تارکینِ وطن اپنی کشتی میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، جو جزوی طور پر خراب اور پانی سے بھری ہوئی تھی اور کریٹ کے جنوب مغرب میں ملی تھی۔ حکام کے مطابق صرف 2 افراد زندہ بچے تھے جبکہ مزید 15 ڈوب گئے تھے اور ان کی لاشیں نہیں مل سکیں۔
مزید پڑھیں: لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن ہلاک اور لاپتا
یورپی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ہجرت کی پالیسی سخت کرنے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد یورپ کی جانب غیر قانونی آمد کو روکنا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان تجاویز کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔














