پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین پنجاب اسمبلی کا ایوان کے اجلاسوں میں غیر حاضر رہنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔
یہ بی پڑھیں: ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال ایوان میں برہم کیوں ہوئے؟
پارٹی کے ایم پی ایز نہ صرف سیشنز سے غائب رہتے ہیں بلکہ کئی مواقع پر باہر گروپس کی شکل میں دعوتیں کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں اور یہ صورتحال سنہ 2025 کے وسط سے تاحال جاری ہے۔
یہ تمام مسائل جون 2025 میں اسپیکر ملک احمد خان کے پی ٹی آئی کے 26 ارکان کو 15 سیشنز کے لیے معطل کرنے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئے۔
معطلی کی وجہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی بتائی گئی تھی جس کے بعد اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ کر دیا اور باہر احتجاج شروع کر دیا۔ اگرچہ بعد میں معطلی ختم بھی ہوگئی مگر بائیکاٹ اور غیر حاضری کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں ہمارے ارکان اس لیے نہیں آتے کیوں کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کی کوئی واضع پالیسی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ ارکان اگر ایوان کے اندر حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو ہمارے اپنے لیڈر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ہماری شکایت کردیتے ہیں کہ فلاں رکن اسمبلی ہماری بات نہیں سن رہا اور اگلے دن اس رکن اسمبلی پر کوئی نہ کوئی مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے پی ٹی آئی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں یہ کہتے ہوئے شرکت کم کر دی کہ جب اپوزیشن لیڈر ہی اپنے اراکین کے خلاف ہو جائیں تو پھر ہمیں حکومت کی پالیسوں اور کرپشن پر آواز اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ کے مہنگے ہوائی جہازکے معاملے پر پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اس پرن ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ بھی طے کیا گیا کہ ایوان کے اندر پی ٹی آئی اراکین پلے کارڈ لے کر جائیں گے اور اسمبلی کے باہر مال روڈ پر پر امن احتجاج کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر اگلے روز اراکین جب اجلاس میں جانے لگے تو اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت نے کہا کہ پلے کارڈز ایوان میں نہ لے جائیں ورنہ اجلاسوں میں شرکت پر پابندی لگ جائے گئی جس پر اراکین خاموش ہو گئے اور کچھ نے اجلاس میں جانے سے ہی انکار کر دیا۔
ایم پی اے نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی کئی ایشوز پر ان کے اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ایسا کر چکے ہیں جس کے بعد سے ارکان اب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن مختلف ایشوز پر اجلاس بلانے کی ریکیوزیشن جمع کرواتے ہیں تو اجلاس بلا لیا جاتا ہے مگر جس ایشو کو بنیاد بنا کر اجلاس بلایا جاتا ہے اس پر اپوزیشن بات ہی نہیں کرتی اور حکومت ان اجلاسوں میں مختلف قوانین پاس کروا لیتی ہے۔
ایم پی اے نے بتایا کہ اپوزیشن نے ریکیوزیشن جمع کروائی ہوئی ہے مگر اجلاس ابھی تک نہیں بلایا گیا۔
مزید پڑھیے: اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 26 اپوزیشن اراکین کی نااہلی کی درخواستیں مسترد کر دیں
پی ٹی آئی کے ایم پی ایز نے وی نیوز کو بتایا کہ ایک اور وجہ اسمبلی سیشنز میں غیر حاضری کی یہ بھی ہے کہ عمران خان کی ہمیشرہ علیمہ کی ہدایت پر اراکین کی اڈیالہ جیل میں ڈیوٹیاں لگادی جاتی ہیں۔ کچھ نہ کچھ ارکان وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے کیسز ہوتے ہیں تو اراکین کو وہاں بھی بلا لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات پر اراکین متحد نہیں ہیں، پارٹی کا پنجاب میں بہت برا حال ہے اور اگر ایسا چلتا رہا تو اپوزیشن نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور حکومت اپنی مرضی سے قوانین پاس کروا لے گی۔
اب بھی پی ٹی آئی کے بیشتر ارکان اجلاسوں میں کم حاضر ہوتے ہیں۔ پارٹی کی قیادت مینڈیٹ کی بحالی، عمران خان کی رہائی اور جیل میں ملاقاتوں کی پابندی جیسے مطالبات کر رہی ہے جبکہ حکومت انہیں سیاسی ناکامی قرار دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اراکین کا انوکھا احتجاج
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اندرونی خلفشار اور قیادت کے فیصلوں نے پی ٹی آئی کو صوبائی سطح پر مزید کمزور کر دیا ہے۔













