ماری انرجیز کی وزیرستان بلاک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماری انرجیز نے وزیرستان بلاک میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر کی دریافت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری خط کے مطابق ‘اسپن وام ون’ کنوئیں کی کھدائی جدید ‘ای ڈبلیو ٹی’ سسٹم کے ذریعے مکمل کی گئی۔ کنوئیں سے یومیہ 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس اور 200 بیرل ہلکے تیل کے ذخائر حاصل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: گیس کی الاٹمنٹ اورقیمتوں کی تفصیلات پر ماری انرجیز کا اسٹاک ایکسچیبج کو خط

خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ‘اسپن وام’ کنوئیں کی پیداوار کو ‘شیوا’ کنوئیں کے ساتھ منسلک کر کے مجموعی ذخائر کو سسٹم میں شامل کیا جا رہا ہے۔ دونوں کنوؤں سے گیس کی مجموعی پیداوار بڑھ کر 100 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح دونوں کنوؤں سے حاصل ہونے والے ذخائر کو یکجا کرنے کے بعد تیل کی یومیہ پیداوار تقریباً 800 بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق وزیرستان بلاک میں تیل و گیس کی یہ دریافت مشترکہ شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ مل کر کی گئی ہے، جو ملکی توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘