12 برس بعد بھی چکوال نادرن بائی پاس ادھورا، تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چکوال کا اہم ترین نادرن بائی پاس منصوبہ 12 برس گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکا جس کے باعث شہریوں کا انتظار طویل ہونے کے ساتھ ساتھ منصوبے کی تعمیراتی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ بلکسر انٹرچینج سے راولپنڈی روڈ تک تقریباً 23 کلومیٹر طویل اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہر کے اندر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور بیرونی ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کرنا تھا تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال تکمیل کی منزل حاصل نہیں کرسکا۔

یہ بھی پڑھیں: چکوال کے 2 دوست وطن پر قربان، ایک ساتھ جینے مرنے کا عہد پورا کر دکھایا

چکوال کے لیے اہم قرار دیے جانے والے رنگ روڈ منصوبے کو بعد ازاں نادرن بائی پاس کے نام سے آگے بڑھایا گیا۔ منصوبے کے آغاز کے وقت شہریوں کو امید تھی کہ بائی پاس کی تکمیل سے شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بھاری گاڑیوں کی آمدورفت میں بہتری آئے گی اور شہریوں کو سفری مشکلات سے نجات ملے گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ منصوبہ خود ہی تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا۔

12 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود نادرن بائی پاس پر کام نہ ہونے پر شہریوں کا کہنا ہے کہ چکوال میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر اس منصوبے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ان کے مطابق بائی پاس کی تکمیل سے شہر کے اندر ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جاسکتی ہے اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکتی ہیں۔

منصوبے میں تاخیر کا اثر صرف اس کی تکمیل پر ہی نہیں پڑا بلکہ تعمیراتی لاگت بھی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ منصوبے کے آغاز کے وقت تعمیراتی سامان، مشینری اور دیگر اخراجات موجودہ صورتحال کے مقابلے میں کم تھے تاہم مسلسل مہنگائی اور تعمیراتی اخراجات میں اضافے کے باعث منصوبے کی مجموعی لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔

یوں ایک طرف منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوسکا تو دوسری جانب تاخیر نے سرکاری وسائل پر اضافی مالی بوجھ بھی ڈال دیا۔

مزید پڑھیے: چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

تاہم منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے رکن صوبائی اسمبلی حیدر سلطان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نادرن بائی پاس پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

ان کے مطابق وہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں جلد دوبارہ شروع کی جائیں۔

حیدر سلطان کا کہنا تھا کہ نادرن بائی پاس چکوال کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے اور اس کی تکمیل کے لیے پیشرفت جاری ہے۔

شہریوں کے مطابق نادرن بائی پاس محض ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ چکوال کے مستقبل کے ٹریفک نظام سے جڑا ایک اہم منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری تاخیر کے بعد اب انہیں صرف یقین دہانی نہیں بلکہ عملی طور پر کام دوبارہ شروع ہوتا ہوا دیکھنا ہے تاکہ منصوبہ جلد مکمل ہو اور شہر کو ٹریفک کے موجودہ مسائل سے نجات مل سکے۔

مزید پڑھیں: گھر کے کچن سے فوڈ برانڈ تک کا سفر: چکوال کے جوڑے نے محنت سے مثال قائم کردی

12 برس کی تاخیر نے نادرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس کی لاگت پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان جاری رابطے کب عملی پیشرفت میں تبدیل ہوتے ہیں اور چکوال کا یہ اہم منصوبہ کب دوبارہ تعمیراتی مراحل میں داخل ہوکر تکمیل کی جانب بڑھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp