صومالی قزاقوں کی قید سے زندگی کی طرف واپسی: یاسر خان اور ان کی اہلیہ کی آپ بیتی

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سمندر کی بے رحم لہروں اور گہرے پانیوں کے درمیان جب زندگی اور موت کا فاصلہ محض چند انچ رہ جائے، تو انسان کی امید صرف معجزوں پر ٹکی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک خوفناک اور روح فرسا واقعہ اس وقت پیش آیا جب صومالی قزاقوں نے تیل کے ایک جہاز پر حملہ کرکے 17 کریو ممبران کو یرغمال بنا لیا، جن میں 10 پاکستانی بھی شامل تھے۔ ساڑھے 5 ماہ تک قید و بند اور تشدد کی صدماتی کیفیات جھیلنے کے بعد بالآخر پاکستانی سی فیئر (Seafarer) یاسر خان بحفاظت اپنے گھر کراچی پہنچ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:صومالیہ: قزاقوں کی فائرنگ سے 5 پاکستانی جاں بحق، مقدمہ کس کے خلاف درج کریں، لواحقین

وی نیوز سے یاسر خان اور ان کی اہلیہ مہوش یاسر نے خصوصی گفتگو کی، جس میں انہوں نے قید کی تکالیف، خونریز آپریشن اور رہائی کی دردناک داستان بیان کی۔

قید کے ساڑھے 5 ماہ اور بے بسی کے ایام

یاسر خان کے مطابق قزاقوں کے قبضہ میں گزرا ہوا ایک ایک پل انتہائی تکلیف دہ تھا۔ قزاقوں نے تمام یرغمالیوں کو ایک جگہ بٹھا کر ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی، یہاں تک کہ باتھ روم جانے کے لیے بھی ان سے اجازت لینی پڑتی تھی۔

کھانے پینے اور خوراک کی شدید قلت تھی اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رکھا گیا تھا۔ جہاز پر کل 17 افراد موجود تھے جن میں پاکستانیوں کے علاوہ انڈونیشین، انڈین، میانمار اور سری لنکن شہری شامل تھے۔

مشکلات کے باوجود تمام یرغمالی ایک دوسرے کے غم میں شریک رہتے اور اسی امید پر دن کاٹتے کہ ایک نہ ایک دن وہ واپس اپنے وطن ضرور جائیں گے۔

حادثے کی وجہ اور کیپٹن کی غفلت

جہاز عمان کی شناص پورٹ سے ڈیزل لوڈ کرکے موغادیشو (صومالیہ) کی طرف جا رہا تھا۔ خطرناک روٹ کے حوالے سے یاسر خان نے بتایا کہ جہاز کے نیویگیشن اور کارگو پلان میں شدید غلطیاں تھیں اور کیپٹن کی غفلت اس حادثے کا بنیادی سبب بنی۔

اگر کیپٹن کمپنی سے سیکیورٹی کی ڈیمانڈ کرتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ قزاقوں نے جہاز سے سینکڑوں ٹن ڈیزل نکال کر دیگر اغوا شدہ جہازوں کو فراہم کیا اور 7 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ وہ پاکستانی حکومت کو پریشرائز کرنے کے لیے یرغمالیوں کو اپنے گھر والوں پر دباؤ ڈالنے کا کہتے تھے۔

خونریز نجات آپریشن اور خوفناک مناظر

رہائی سے قبل کا آخری آپریشن انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔ پنٹ لینڈ (Puntland) آرمی کی بوٹ کو فالو کرتے دیکھ کر قزاقوں نے تمام لائٹیں بند کرکے بلیک آؤٹ کردیا اور یرغمالیوں کو اوپن ڈیک پر ہاتھ پیچھے باندھ کر کھڑا کر دیا۔ اس دوران ساحل اور آرمی کی طرف سے فائرنگ شروع ہوئی اور گولیاں یرغمالیوں کے سروں اور کانوں کے پاس سے گزرنے لگیں۔

قزاقوں کے آپسی کلیش اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جہاز پر موجود کئی لوگ گولیوں کا نشانہ بنے۔ اس واقعے میں کچھ افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ کئی شدید زخمی ہوئے۔ فائرنگ کے دوران جہاز کا انجن روم اور کارگو ٹینک بھی آسیب زدہ ہوئے جس سے سمندری پانی اور ڈیزل لیک ہونا شروع ہو گیا۔

اہلیہ مہوش کی جدوجہد اور دردناک احساس

یاسر خان کی اہلیہ مہوش نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے انتہائی کٹھن جدوجہد کی۔ انہوں نے دیگر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر مظاہرے کیے، پولیس کی سختی اور دھکے برداشت کیے۔

مہوش کا کہنا تھا کہ شوہر کی زندہ واپسی اللہ کا بڑا معجزہ اور کرم ہے، لیکن اس بات کا گہرا دکھ ہے کہ تمام 10 پاکستانی زندہ واپس نہ آ سکے اور ان میں سے کچھ کے جسدِ خاکی تابوتوں میں پہنچے۔

حکومت کے لیے تجاویز اور مستقبل کا خوف

یاسر خان اور ان کی اہلیہ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سمندری حدود میں کام کرنے والے سی فیئرز (جو ملک کے لیے زرمبادلہ لاتے ہیں) کی تحفظ و سیکیورٹی کے لیے سخت قوانین اور سہولیات فراہم کی جائیں۔

مزید پڑھیں:وزیر بحری امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ٹینکر اغوا پر رپورٹ طلب کر لی

مہوش نے واضح کیا کہ وہ اپنے شوہر کو دوبارہ اتنے خطرناک سفر پر نہیں بھیجیں گی اور حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کو ملک کے اندر ہی روزگار کے مواقع فراہم کرے۔

یاسر خان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد وہ شدید ذہنی صدمے سے گزر رہے ہیں۔ ان کے لیے اب دوبارہ سمندر کا رخ کرنا ناممکن ہے اور وہ ابھی تک اس بات پر یقین نہیں کر پا رہے کہ وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp