ہزاروں نقطے جوڑ کر تصاویر بنانے کا صدیوں پرانا ہنر

اتوار 4 جون 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پوائنٹلزم  یعنی نقظوں سے فن پارے بننے کے بارے جب سنا تو دل میں یہی خیال آیا کہ یہ آرٹ کی وہی قسم ہے جس پر ہم بچپن میں ہی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ مگر ‘نونہال’ اور ‘پھول اور کلیاں’ میں “نقطے ملائیے” والے آرٹسٹ نے جب اسلام آباد کی رہائشی  بنفشین کو نقطے ملا کر تصاویر بناتے دیکھا تو قطرہ قطرہ دریا ہونے کی فارسی کہاوت یاد آ گئی۔

بنفشین  کا کہنا ہے کہ صرف ان کا آرٹ ہی نہیں کائنات کی ہر شے چھوٹے چھوٹے نقطوں (ایٹم) سے بنی ہے، حتیٰ کہ جاندار بھی بے شمار خلیوں کا مجموعہ ہیں۔ پوائنٹلزم آرٹ کی ایک قدیم قسم ہے اور بنفشین  2016ء سے اس پر کام کر رہی ہیں جب  وہ گیارہویں جماعت میں پڑھتی تھیں۔ تب سے یہ آرٹ ان کے گلے کا ہار ہے اور ان کا زیادہ تر وقت ہزاروں نقطوں سے دلکش فن پارے تخلیق کرنے میں ہی گزرتا ہے۔

نوجوان آرٹسٹ کے مطابق اس آرٹ کو بنانے کے دوران ان کی ساری توجہ ایک ایک نقطے پر مرکوز ہوتی ہے جس کے باعث انہیں ذہنی سکون و روحانی تمانیت ملتی ہے۔ پوائنٹلزم کے تخلیقی فن بارے مزید جانیں  سندس کرن کی ویڈیو رپورٹ میں ۔۔۔۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟